میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً اڑھائی کروڑ بائیکس غریب اور متوسط طبقے کے زیر استعمال ہیں جبکہ صرف موٹرسائیکل استعمال کرنے والے شہری سالانہ اربوں روپے مختلف ٹیکسوں اور لیوی کی مد میں ادا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ گزشتہ برس سیکڑوں ارب روپے ٹیکس دے چکا ہے، اس کے باوجود حکومت عوام کو مزید ریلیف دینے کے بجائے نئے بوجھ ڈال رہی ہے،حکومت کو اپنی معاشی پالیسیوں پر نظرثانی کرنا ہوگی اور عوامی دباؤ کے باعث آخرکار پیچھے ہٹنا پڑے گا۔
حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز معاہدوں، ایف بی آر میں مبینہ کرپشن اور مہنگائی کے حوالے سے بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا، عام آدمی اپنی آمدن کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں کی صورت میں ادا کرتا ہے جبکہ حکمران طبقہ عوامی مشکلات سے لاتعلق دکھائی دیتا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عوامی توقعات پوری نہیں کی گئیں، اسی لیے جماعت اسلامی نے عوامی مسائل کے حل کیلئے براہِ راست عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں: محمود خان اچکزئی سے مولانافضل الرحمان کی ملاقات، اپوزیشن جماعتوں کے باہمی تعاون پر مشاورت
عدالتی اور قانونی نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئےامیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک میں مختلف طبقات کیلئے الگ الگ قوانین کا تاثر پیدا ہو رہا ہے، جو انصاف کے اصولوں کے منافی ہے۔
آخر میں حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ وہ 15 تاریخ کو اسلام آباد میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرہ کریں گے، جس میں مہنگائی، ٹیکسوں اور معاشی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی جائے گی۔







