لاہور میں ضمنی انتخابات میں کامیاب ہونے والے نومنتخب ارکان اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے، لیکن پچھلے چار برسوں میں ہماری حکومت نہیں تھی۔ اس کے باوجود ہم نے تمام ضمنی انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔

جس دن میں میانوالی گئی تھی، اسی دن مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ میانوالی میں واقعی تبدیلی آ چکی ہے۔ جب کوئی اپنے دفتر سے نکل کر عوام کے درمیان جاتا ہے تو اسے فوراً پبلک پلس کا احساس ہوتا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ آپ سب نے ڈسکہ کا واقعہ دیکھا، جب اچانک دھند چھا گئی تھی اور پریزائیڈنگ افسران سمیت پورا انتخابی عملہ غائب ہو گیا تھا۔ 12 گھنٹے بعد جب انہیں واپس لایا گیا تو ہمیں صرف ایک ہزار ووٹوں سے ہرا دیا گیا۔ مگر اگلے روز جب ہم نے احتجاج کیا اور میں خود ڈسکہ پہنچی تو فتح دوبارہ مسلم لیگ (ن) کے نام ہوئی۔

وزیراعلی کا کہنا تھا کہ میری نظر میں، مسلم لیگ (ن) نے جیلوں میں جانے، خاندانوں اور پوری جماعت پر مشکلات کے باوجود سیاست کا راستہ نہیں چھوڑا۔ یہاں میرے دائیں بائیں بیٹھے رہنماؤں نے سخت ترین قربانیاں دیں اور کڑا وقت دیکھا، مگر ثابت قدم رہے۔ مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ مسلم لیگ (ن) نے کبھی سیاسی عمل سے ہاتھ نہیں کھینچا۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ دوسری طرف، جو انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا دعویٰ کرتے تھے، انہی لوگوں نے منافقت کے ساتھ ہر جگہ اپنے امیدوار کھڑے کیے۔ کسی نے اپنی بیوی کو امیدوار بنایا، کسی نے اپنے بھائی کو۔ ہر جگہ اپنے لیڈر کا نام لے کر انتخابی مہم چلائی، جب کہ زبانی دعویٰ بائیکاٹ کا کرتے رہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوام اب سب کچھ دیکھ رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے جلسے خالی ہوتے ہیں، ان کے کیمپین آفس سنسان پڑے رہتے ہیں۔ نہ اب کوئی ان کی باتوں میں آتا ہے، نہ ان کے جلسوں میں لوگ پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے بہکاوے میں آنے کو تیار ہیں۔