انہوں نے کہا کہ جب ہر طرف 30،30 جنازے پڑ رہے تھے تو قوم کے دل میں یہی سوال تھا کہ ہم کب تک اپنے جوانوں کے جنازے پڑھتے رہیں گے اور اسی سوال کا موثر جواب دیا گیا ہے، لہٰذا وہ وزیراعظم، صدر اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔

رانا ثنااللہ نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ اس موقع پر قومی یکجہتی دکھائی جائے اور میثاقِ استحکام پاکستان پر مل کر بات کی جائے۔

انہوں نے خاص طور پر پی ٹی آئی کی قیادت سے مخاطب ہو کر کہا کہ چاہے آپ ہماری نکتہ چینی کریں مگر پاکستان، مسلح افواج اور شہدا کے ساتھ کھڑے ہوں اور شہدا کے خون کو عزت دیں تاکہ اندرونِ و بیرونِ ملک معاملات پرسکون انداز سے آگے بڑھ سکیں اور معیشت کو استحکام ملے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اب دنیا میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور پوری دنیا ہماری عسکری و سفارتی قوت کو تسلیم کرتی ہے، اس لیے سیاسی جماعتیں اس قوت کا حصہ بنیں۔ انہوں نے مذہبی جماعتوں سے بھی اپیل کی جو غزہ مارچ کے نام پر احتجاج کر رہی ہیں کہ ایسے موقع پر احتجاج مناسب نہیں، خاص طور پر جب فوج اپنے شہدا کا بدلہ لے رہی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمٰن اور علامہ طاہر اشرفی سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں نے بھی اس نوعیت کے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا ہے، لہٰذا احتجاج کو ملتوی کر کے پاک فوج اور ملک کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔