پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے دہشت گردوں کی واپسی، سرحد کھولنے اور جیلوں سے قیدیوں کی رہائی سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ آخر کس نے ان عناصر کو ملک میں واپس آنے کا موقع دیا اور کس حکومت نے انہیں رہا کرنے کی اجازت دی؟

اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں سوال کیا کہ سرحد کس نے کھولی اور کالعدم تنظیم کے دہشت گردوں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت کس نے دی؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ جیلوں سے دہشت گردوں کو رہا کرانے کا فیصلہ کس نے کیا اور ان کی رہائی کی اجازت کس حکومت نے دی؟ نائب وزیراعظم کے مطابق ان اقدامات کے بعد ملک میں دہشت گردی کے مسائل دوبارہ سامنے آئے اور سکیورٹی کی صورتحال کو سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے بقول، اگر ماضی میں کیے گئے فیصلوں اور دہشت گردوں کی واپسی کے معاملے کا جائزہ نہ لیا گیا تو اس کے نتائج سے نمٹنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کے بعض افراد کو بھی اس صورتحال کا ذمہ دار قرار دیا، تاہم اپنے خطاب میں اس حوالے سے تفصیلی شواہد پیش کیے جانے کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔

نائب وزیراعظم نے دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر اب بھی دہشت گردی کے مسئلے سے مؤثر انداز میں نہیں نمٹا گیا تو پھر کب اقدامات کیے جائیں گے؟ ان کا کہنا تھا کہ ملک کو درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ماضی کے فیصلوں اور ان کے اثرات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں اسحاق ڈار کے خطاب کے دوران دہشت گردی، سرحدی انتظامات اور دہشت گردوں کی مبینہ رہائی کے معاملات زیرِ بحث آئے۔ ان کے بیان میں سابقہ حکومتی فیصلوں پر سوالات اٹھائے گئے اور تحریک انصاف کے بعض افراد پر ذمہ داری عائد کی گئی۔ یہ الزامات نائب وزیراعظم کے بیان کا حصہ ہیں، جبکہ متعلقہ واقعات اور ذمہ داریوں کا تعین مستند شواہد اور متعلقہ ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جانا ضروری ہے۔