گلوبل ہنگر انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان 122 ممالک میں 106ویں نمبر پر ہے، جبکہ ملک میں بھوک کی صورتحال کو سنگین قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں پاکستان کا اسکور 25.5 رہا، جو 2018 میں 24.0 تھا۔ اس طرح گزشتہ برسوں کے دوران صورتحال میں 6.3 فیصد بگاڑ ریکارڈ کیا گیا۔ درجہ بندی میں پاکستان، انڈیا، بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا سے بھی پیچھے ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں سری لنکا 53ویں، نیپال 72ویں، بنگلہ دیش 84ویں اور انڈیا 100ویں نمبر پر ہے، جب کہ افغانستان 108ویں نمبر پر موجود ہے۔

پاکستان اور افغانستان خطے کے وہ دو ممالک ہیں جہاں 2018 کے مقابلے میں بھوک کے اشاریے میں بہتری کے بجائے بگاڑ سامنے آیا ہے۔

پاکستان میں غذائی قلت کی شرح 2018 کے 10.9 فیصد سے بڑھ کر 2026 میں 16.1 فیصد ہوگئی، جب کہ پانچ سال سے کم عمر بچوں میں کم وزن اور جسمانی کمزوری کی شرح 7.1 فیصد سے بڑھ کر 9.8 فیصد تک پہنچ گئی۔

بچوں کی نشوونما میں رکاوٹ کی شرح 38.1 فیصد سے کم ہو کر 33.6 فیصد اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات کی شرح 6.8 فیصد سے گھٹ کر 5.6 فیصد رہ گئی۔

رپورٹ نے غذائی صورتحال میں بگاڑ کی وجوہات میں معاشی عدم استحکام، خوراک کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو شامل کیا ہے۔ 2025 میں شدید مون سون بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب سے 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے، جبکہ زرعی زمینوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کی صورتحال 2000 کے مقابلے میں اب بھی بہتر ہے، جب اس کا اسکور 36.2 تھا، تاہم حالیہ رجحانات غذائی تحفظ کے حوالے سے نئے خدشات پیدا کرتے ہیں۔

عالمی سطح پر بھی بھوک میں کمی کی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کا ہنگر انڈیکس اسکور 2018 کے 17.6 سے بڑھ کر 2026 میں 18.1 ہوگیا، جب کہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 64 کروڑ 50 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار تھے۔ جنوبی ایشیا کا اسکور 23.5 ہے، جو سب صحارا افریقہ کے بعد دنیا میں دوسرا بلند ترین علاقائی اسکور ہے۔