ایف آئی آر کے متن کے مطابق اسکول کی عمارت کی تعمیر میں مبینہ طور پر ناقص میٹریل استعمال کیا گیا تھا، جبکہ عمارت کی حالت بھی خستہ اور بچوں کے لیے غیر محفوظ تھی۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسکول کی دیواروں اور چھتوں کی خراب حالت کے بارے میں پہلے بھی شکایات سامنے آئی تھیں، تاہم مبینہ طور پر اسکول انتظامیہ نے ان شکایات پر مناسب توجہ نہیں دی۔
مقدمے کے مطابق حادثے کے وقت اسکول کی دوسری منزل پر قائم نرسری کلاس اور گراؤنڈ فلور پر موجود کمروں کی چھتیں گر گئیں، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں بچے اور دیگر افراد ملبے تلے دب گئے۔ واقعے میں بچوں اور خاتون ٹیچر کی جانیں ضائع ہوئیں، جبکہ 52 افراد زخمی ہوئے۔ اس حادثے کے بعد عمارت کی تعمیر، اس میں استعمال ہونے والے مواد اور حفاظتی انتظامات سے متعلق سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایف آئی آر میں اسکول کی اراضی سے متعلق تفصیلات بھی درج کی گئی ہیں۔ مقدمے کے متن کے مطابق اسکول کی زمین 16 مرلے پر مشتمل ہے، جو وحید اور جاوید کی ملکیت بتائی گئی ہے۔ یہ اراضی 2024 میں لیز پر حاصل کی گئی تھی، جس کے بعد وہاں اسکول کی عمارت تعمیر کی گئی۔ پولیس نے عمارت کی تعمیر میں شامل افراد اور اسکول کی ملکیت سے متعلق معلومات کو بھی مقدمے کا حصہ بنایا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ عمارت تعمیر کرنے والے ٹھیکیدار، اسکول مالکان اور شیئر ہولڈرز کے خلاف درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 322، جو قتل بالسبب سے متعلق ہے، سمیت دفعات 148 اور 149 شامل کی گئی ہیں۔ پولیس نے مقدمے میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی ہے۔
واقعے کی تحقیقات میں عمارت کی خستہ حالی، تعمیر میں استعمال ہونے والے میٹریل اور مبینہ طور پر پہلے موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ اہم ہوگا۔ تاہم ایف آئی آر میں درج الزامات کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔
پشاور کے دیر کالونی اسکول میں پیش آنے والے اس سانحے نے عمارتوں کی تعمیر کے معیار، تعلیمی اداروں میں بچوں کی حفاظت اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق سنگین سوالات پیدا کردیے ہیں۔ پولیس کی جانب سے تحقیقات اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔







