پولیس کے مطابق ملزم منظور حسین کے خلاف بھینس کے مالک بشیر احمد کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ بھینس رسی تڑوا کر کھیتوں میں داخل ہو گئی تھی، جس پر ملزم نے طیش میں آ کر کلہاڑی کے وار کیے اور بھینس کی اگلی دو ٹانگیں کاٹ دیں، جبکہ پچھلی ٹانگوں اور جسم پر بھی حملے کیے گئے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد ویٹرنری ڈاکٹرز نے موقع پر پہنچ کر زخمی بھینس کو طبی امداد فراہم کی، تاہم جانور کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ ملزم منظور حسین کو حراست میں لے کر تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ برسوں میں جانوروں پر تشدد کے متعدد افسوسناک واقعات سامنے آ چکے ہیں۔ اس سے قبل پنجاب کے علاقے روات میں فصل میں داخل ہونے پر ایک گدھی کے دونوں کان کاٹ دیے گئے تھے، جب کہ 2024 میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں زمین میں داخل ہونے کے تنازع پر ایک اونٹنی کی ٹانگ کاٹ دی گئی تھی، جس پر شدید عوامی ردعمل سامنے آیا تھا۔
اسی طرح جنوبی پنجاب کے اضلاع روجھان اور پیر محل میں بھی فصل میں داخل ہونے پر گائے اور بھینس کی ٹانگیں توڑنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن پر شہریوں اور جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے سخت تشویش کا اظہار کیا تھا۔
لازمی پڑھیں: سانحہ گل پلازہ کے ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے گا، میئر کراچی
انسانی حقوق اور جانوروں کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیموں نے مطالبہ کیا ہے کہ بے زبان جانوروں پر تشدد کرنے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے تاکہ ایسے غیر انسانی واقعات کا مستقل سدباب ہو سکے۔







