فلڈ فارکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق سلال ڈیم سے چھوڑا گیا پانی آئندہ 24 سے 36 گھنٹوں کے دوران پاکستان میں داخل ہوگا۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ دریائے چناب میں پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے، اس لیے دریا کے کناروں پر آباد شہری غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔
محکمہ فلڈ فارکاسٹنگ کے مطابق سیالکوٹ، نارووال اور گوجرانوالہ کے نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ حافظ آباد، چنیوٹ اور جھنگ میں دریائے چناب کے کناروں پر رہنے والے افراد کو احتیاطاً محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کردی گئی ہے۔
اسی طرح فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائے چناب سے ملحقہ بعض مواضعات بھی زیرآب آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ ملتان اور مظفرگڑھ کے نشیبی دیہات کے لیے بھی سیلابی الرٹ جاری کردیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق ہیڈ مرالہ سے ہیڈ تریموں تک دریائے چناب سے ملحقہ تمام اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور آبپاشی کے محکموں کو ہائی الرٹ رہنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضروری انتظامات مکمل رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ اور سحر کامران کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ؛ میری بے عزتی ہوئی، سمجھوتہ نہیں کروں گی
انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، صرف سرکاری اطلاعات پر اعتماد کریں، دریا کے قریب جانے سے گریز کریں اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں تاکہ انسانی جانوں اور املاک کے ممکنہ نقصان سے بچا جا سکے۔






