انہوں نے بتایا کہ متعدد پاکستانی شہریوں کو مبینہ طور پر بحری قزاقوں نے یرغمال بنا رکھا ہے، جن میں سے کچھ کا تعلق کراچی کے مختلف علاقوں سے ہے، مغویوں کی تعداد تقریباً دس ہے جبکہ ان کے اہل خانہ مسلسل پریشانی کا شکار ہیں اور آج خود ادارہ نور حق پہنچے تاکہ اپنی آواز اعلیٰ حکام تک پہنچا سکیں۔
پریس کانفرنس کے دوران حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق مغویوں کو مناسب خوراک اور بنیادی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم اور وفاقی وزیر داخلہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں اور مغویوں کی بازیابی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم ان تمام خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی رہائی تک آواز بلند کرتے رہیں گے۔”
معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے آئندہ وفاقی بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ امکان ہے کہ بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرکے عوام پر بوجھ ڈالا جائے گا، ان بنیادی ضروریات کی قیمتوں کو فکس کیا جائے تاکہ عام شہری کو ریلیف مل سکے۔
انہوں نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے پر فوری پیش رفت ہونی چاہیے تاکہ توانائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں “بندر بانٹ” اور غیر شفاف فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ عام آدمی مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔
مزید پڑھیں: آئندہ مالی سال کا بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا
سابقہ حکومتی اخراجات پر بھی تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اعلیٰ سطحی شخصیت کی جانب سے مہنگا سرکاری طیارہ خریدنے کے باوجود عالمی مالیاتی ادارے خاموش ہیں، جو سوالات کو جنم دیتا ہے۔
بلوچستان میں پیش آنے والے ایک افسوسناک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تیزاب گردی کی شدید مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ متاثرہ خاتون کو فوری انصاف فراہم کیا جائے اور صوبے میں صحت کی بنیادی سہولیات بہتر بنائی جائیں۔
آخر میں انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ وفاقی بجٹ میں عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی 13 جون کو ملک گیر ہڑتال کی کال دے گی۔







