تفصیلات کے مطابق عدالت نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، صبغت اللہ بلوچ شاہ، بالاچ قادر اور ابوبکر کلانچی کو فروری 2024 میں گوادر میں ہونے والے احتجاج کے دوران فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی) کے اہلکار شبیر بلوچ کے قتل کے مقدمے میں قصوروار قرار دیا۔

استغاثہ کے مطابق گوادر میں منعقدہ بلوچ راجی مچی (بلوچ قومی اجتماع) کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں مبینہ پتھراؤ کے نتیجے میں ایف سی اہلکار شبیر بلوچ شدید زخمی ہوئے اور بعد ازاں دم توڑ گئے۔ حکومت نے اس واقعے کے بعد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے ساتھیوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔

سکیورٹی وجوہات کے باعث مقدمے کی سماعت کوئٹہ جیل کے اندر ویڈیو لنک کے ذریعے مکمل کی گئی۔ جج محمد علی مبین نے استغاثہ کے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر چاروں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔

عدالتی کارروائی کے دوران ملزمان اور ان کے وکلاء نے فیس لیس ٹرائل قرار دیتے ہوئے مقدمے کا بائیکاٹ کیا، جب کہ گرفتار بلوچ رہنما 12 جون سے ڈسٹرکٹ جیل ہدہ کے اندر احتجاجی دھرنا بھی دیے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو 22 مارچ 2025 کو کوئٹہ میں ایک احتجاج کے بعد امن عامہ برقرار رکھنے کے قانون (3 ایم پی او) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ بعد ازاں ان کے خلاف دہشت گردی، بغاوت اور قتل سمیت مختلف مقدمات قائم کیے گئے۔ کراچی میں نفرت انگیز تقاریر کے ایک مقدمے میں وہ بری ہو گئی تھیں، تاہم کوئٹہ میں درج مقدمات کے باعث وہ مسلسل جیل میں قید رہیں۔

ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے بولان میڈیکل کالج، کوئٹہ سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ ان کی سیاسی اور سماجی جدوجہد کا آغاز 2009 میں اس وقت ہوا جب ان کے والد عبدالغفار لانگو مبینہ طور پر جبری گمشدگی کا شکار ہوئے اور 2011 میں ان کی لاش برآمد ہوئی۔

بعد ازاں وہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور بلوچ عوام کے حقوق کے لیے سرگرم رہیں اور 2023-2024 کے بلوچ لانگ مارچ کی قیادت کے باعث قومی اور بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل کی۔

دوسری جانب ریاستی اداروں کا مؤقف رہا ہے کہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ احتجاج کی آڑ میں امن و امان خراب کرنے اور کالعدم تنظیموں کی سہولت کاری میں ملوث رہی ہیں۔

فیصلے کے بعد انسانی حقوق کی مختلف تنظیموں اور بلوچ کارکنوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے، جب کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی اور ملزمان کے وکلاء نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف بلوچستان ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کریں گے۔