یہ ہدایات وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں جاری کی گئیں، جس میں پارلیمانی اراکین اور محکمہ آبپاشی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں نصیر آباد ڈویژن میں جاری ترقیاتی اور بحالی منصوبوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور دریائی پانی کے مؤثر استعمال، نہری نظام کی بہتری اور ڈرینج سسٹم کی ازسرِ نو تنظیم پر غور کیا گیا۔
انہوں نے ضلع صحبت پور میں جاری خیر دین ڈرینج منصوبے کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ مانجھوٹی اور اوچ کینال کی بحالی کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں شامل کیا جائے تاکہ زرعی زمینوں کو درپیش مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ آبپاشی منصوبے صوبے میں زرعی ترقی اور معاشی استحکام کے بنیادی ستون ہیں۔ انہوں نے نصیر آباد کو بلوچستان کا “گرین بیلٹ” اور “فروٹ باسکٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے نہری نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام نہروں اور ڈرینج سسٹم کی مرحلہ وار تنظیم نو کی جائے گی تاکہ پانی کے ضیاع کو روکا جا سکے اور کاشتکاروں کو بروقت پانی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: پنجاب بھر میں 30 روز کے لیے ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی
اجلاس میں منصوبوں کی نگرانی کے لیے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، شفافیت اور جوابدہی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ پروجیکٹ ڈائریکٹرز کی تعیناتی متعلقہ محکموں سے کی جائے اور ترقیاتی اسکیموں کے معیار کو دیرپا اور پائیدار بنایا جائے۔
شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ آبپاشی نظام کی بہتری سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوگا بلکہ مقامی معیشت کو بھی تقویت ملے گی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
اجلاس میں میر محمد صادق عمرانی، میر سلیم خان کھوسہ، عبدالمجید بادینی، صوبائی وزیر نوابزادہ میر طارق خان مگسی، پارلیمانی سیکرٹری حاجی محمد خان لہڑی، چیف سیکریٹری بلوچستان شکیل قادر خان، ایڈیشنل چیف سیکریٹری ترقیات زاہد سلیم، سیکریٹری آبپاشی سہیل الرحمٰن اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت بلوچستان زرعی شعبے کی بحالی اور ترقی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی تاکہ صوبے کو معاشی طور پر مستحکم بنایا جا سکے۔







