وزیر خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 1089 ارب 26 کروڑ روپے رکھا گیا ہے، جب کہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 797 ارب روپے اور ترقیاتی پروگرام کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ترقیاتی پروگرام اور جاری منصوبے
بجٹ دستاویزات کے مطابق صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 206 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 106 ارب روپے جبکہ جاری منصوبوں کے لیے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وفاقی فنڈڈ منصوبوں کے لیے 45 ارب روپے اور فارن پراجیکٹ اسسٹنس کے لیے 40 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق رواں مالی سال کے دوران 2966 نئی اور جاری ترقیاتی اسکیمیں مکمل کی جائیں گی۔
تعلیم کے شعبے کے لیے کتنی رقم رکھی گئی؟
حکومت نے تعلیم کو بجٹ کی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن کے لیے مجموعی طور پر 127 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 12 ارب روپے ترقیاتی اور 115 ارب روپے غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے رکھے گئے ہیں۔
ہائیر ایجوکیشن اور کالجز کے لیے 31 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 2.3 ارب روپے ترقیاتی اور 28.7 ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں شامل ہیں۔
صوبے بھر میں 1200 اسکول فعال بنانے کے لیے 2 ارب 50 کروڑ روپے جاری کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
صحت کے شعبے کے لیے کیا رکھا گیا؟
محکمہ صحت کے لیے مجموعی طور پر 96 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
صحت کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 6 ارب روپے جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 90 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
برن یونٹ کے قیام کے لیے 40 کروڑ روپے جبکہ پرنس فہد ہسپتال دالبندین کے لیے بھی 40 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
امن و امان اور سیف سٹی منصوبہ
امن و امان کے شعبے کے لیے 107 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔
سیف سٹی منصوبے کے لیے 5 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ شہری علاقوں میں نگرانی اور سکیورٹی نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
زراعت اور کسانوں کے لیے کیا اعلان ہوا؟
محکمہ زراعت کے لیے مجموعی طور پر 23.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں 4.4 ارب روپے ترقیاتی اور 19.2 ارب روپے غیر ترقیاتی مد میں شامل ہیں۔
کسان کارڈ پروگرام کے لیے ایک ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ٹیوب ویلوں کی سولرائزیشن کے لیے 3 ارب 80 کروڑ روپے رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے تاکہ زرعی شعبے کو سستی توانائی فراہم کی جا سکے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار
حکومت نے آئندہ مالی سال میں 5 ہزار نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ان میں 3 ہزار آسامیاں محکمہ تعلیم، 500 محکمہ صحت، ایک ہزار نئے اضلاع اور 500 دیگر سرکاری محکموں میں دی جائیں گی۔
ترقی، ریلیف اور خوشحالی کی جانب اہم قدم۔
— PPP (@MediaCellPPP) June 17, 2026
بلوچستان کی عوامی حکومت نے 1100 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا، جو صوبے میں عوامی سہولتوں، ترقیاتی منصوبوں اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
یہ بجٹ عوام دوست پالیسیوں اور معاشی بہتری کی طرف ایک اہم پیش رفت… pic.twitter.com/JQOaShgs23
تنخواہوں اور پنشن میں کتنا اضافہ؟
بلوچستان حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کا اعلان کیا ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبے کو آئندہ مالی سال میں 771 ارب روپے کی محصولات موصول ہونے کی توقع ہے۔
کون سے ٹیکس معاف کیے گئے؟
حکومت نے مالی سال 2026-27 کو ٹیکس فری بجٹ قرار دیا ہے اور کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔
بجٹ میں متعدد شعبوں کو ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، جن میں پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس مکمل معاف، نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس چھوٹ، پبلک جائیداد کی انشورنس پر سیلز ٹیکس ختم، ایکسپورٹ پراسیسنگ زونز میں بیرونی سرمایہ کاری پر صوبائی ٹیکس معاف جب کہ تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس صفر کر دیا گیا۔
کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے اقدامات
حکومت نے وزیراعلیٰ مائیکرو فنانس اسکیم کے تحت ایک ارب روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی کا اعلان کیا ہے۔
اسی طرح بینک آف بلوچستان کے قیام کے لیے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے لیے 3 ارب روپے جبکہ ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے ماسٹر پلان کے لیے بھی 3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت نے بولان انشورنس کمپنی لمیٹڈ کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے جو سرکاری املاک، صحت، حادثات اور قدرتی آفات کے خطرات کے لیے انشورنس خدمات فراہم کرے گی۔ انفراسٹرکچر اور بارڈر منصوبے
پاک افغان سرحد پر بادینی بارڈر ٹرمینل کی تعمیر کے لیے 4 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کے مطابق مختلف اضلاع میں ڈیموں کی تعمیر اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے منصوبوں پر بھی کام جاری رکھا جائے گا۔
حکومت بلوچستان کا کہنا ہے کہ بجٹ کا محور تعلیم، صحت، روزگار، امن و امان اور ترقیاتی منصوبے ہیں، جب کہ اپوزیشن کی جانب سے بجٹ پر بحث کے دوران حکومت کی پالیسیوں پر تنقید بھی متوقع ہے۔






