عاصمہ جہانگیر کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رانا ثنااللہ نے کہا کہ ڈاکٹر مالک اور سردار اختر مینگل کے ساتھ ان کا پرانا اور باہمی احترام پر مبنی تعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مسئلے کو پہلے سمجھنا ہوگا، ماضی میں جو کچھ ہو چکا اس پر افسوس اور اس سے سبق تو سیکھا جا سکتا ہے، مگر اسے واپس نہیں لایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت بلوچستان کے مسئلے کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو وہ ہے جو سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک پیش کر رہے ہیں، جب کہ دوسرا پہلو بشیر زیب اور دیگر افراد پیش کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں مسائل کو حل کرنے کے طریقے مختلف ہیں اور ان کو آپس میں ملا کر دیکھنا ایک بڑی غلطی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ بسوں سے لوگوں کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کیے جاتے ہیں، ہاتھ باندھ کر گولیاں مار دی جاتی ہیں اور ان کی لاشیں پورے پنجاب میں پہنچتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں کبھی کسی نے یہ نہیں کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کا بیڑا غرق ہو، بلکہ سب یہی کہتے ہیں کہ دہشت گردوں نے ظلم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ فتنۃ الہندوستان کے دہشت گرد ہیں، جو لاشوں پر سو سو گولیاں مارتے ہیں۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ فیصل آباد میں بلوچستان کے لوگ اربوں روپے کا کاروبار کر رہے ہیں، کسی نے انہیں کچھ نہیں کہا۔ بلوچ ہمارے بھائی ہیں اور ان کا دہشت گردوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مشیر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک اس بات کی ذمہ داری لیتے ہیں کہ یہ ان کے مطالبات ہیں اور ریاست اگر انہیں پورا کر دے تو ہتھیار رکھ دیے جائیں گے، قتل و غارت ختم کر دی جائے گی، دہشت گردی کی کارروائیاں بند ہوں گی اور دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنا ختم کر دیا جائے گا، تو پھر اس پر بات کیوں نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں غدار کہا گیا، ملک توڑنے والوں کو کوئی سزا نہیں دی گئی، سردار اختر مینگل

انہوں نے کہا کہ جعفر ایکسپریس سانحے پر انڈین میڈیا میں جشن منایا گیا۔ رانا ثنااللہ کے مطابق سردار اختر مینگل ایسے عناصر کو نجات دہندہ نہیں کہتے، کیونکہ یہ لوگ پلوں کو اڑا دیتے ہیں تاکہ کوئی مریض اسپتال نہ پہنچ سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے افراد نجات دہندہ نہیں ہو سکتے، اگر اس نوعیت کے خیالات کا اظہار کیا گیا تو اس کی کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے، تاہم دونوں چیزیں اکٹھی شروع ہوئیں اور اکٹھی ہی ختم ہوں گی۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ اگر کوئی شخص ڈکیتی کرے، قتل اور زیادتی جیسے جرائم میں ملوث ہو تو قانون اسے رعایت کیسے دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار گھنٹے تک عمارتوں کو جلایا گیا اور لوگوں کو شہید کیا گیا، یہ وہ حقائق ہیں جنہیں قومی اور عالمی میڈیا نے رپورٹ کیا اور ایسے عناصر کے خلاف آپریشن کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بات کرنا آسان اور سننا مشکل ہوتا ہے، مگر ان دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے دشمن ملک انڈیا کا ہاتھ ہے، جو معرکۂ حق کا بدلہ بلوچستان میں لینے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد کبھی این ایف سی ایوارڈ یا آئینی حقوق کی بات نہیں کرتے، بلکہ محض ریاست کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، ایسے عناصر کا حل وہی ہے جو ریاست کر رہی ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ ڈاکٹر مالک نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ انتخابات میں اصل سیاسی جماعتوں کو ہٹا کر مصنوعی قیادت لائی گئی، اس پر بات ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں بلوچستان کے حصے میں اضافے، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور دیگر سیاسی مطالبات پر بات چیت ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر سردار اختر مینگل اور ڈاکٹر مالک ذمہ داری لیتے ہیں تو بات چیت کی جا سکتی ہے۔ 18ویں ترمیم پر بھی اتفاقِ رائے کے بغیر کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ آخرکار بات اسمبلی اور پارلیمنٹ میں ہی ہونی ہے، اس لیے وہاں آ کر مسائل پر گفتگو کی جائے۔

مشیر وزیراعظم نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے مخالفت کے باوجود ڈاکٹر مالک کو وزیراعلیٰ بنایا، تاہم سات ماہ بعد ثنااللہ زہری اختلاف میں آ گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات میں کیا ہوا، اس کا آج تک کسی کو مکمل علم نہیں۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ شفاف انتخابات کے لیے کسی نے سیاسی جماعتوں کو نہیں روکا، الیکشن کمیشن کے قواعد اسٹیبلشمنٹ نہیں بلکہ سیاسی جماعتوں کو بنانے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسائل پہیہ جام ہڑتالوں یا تشدد سے حل نہیں ہوں گے۔

آخر میں رانا ثنااللہ نے کہا کہ تمام فریقین مل بیٹھ کر بات چیت کریں اور مسائل کا حل نکالیں، مسلم لیگ (ن) کی قیادت اس عمل کا خیرمقدم کرے گی۔