عالمی خبررساں ادارے بی بی سی اردو نے سرکاری حکام کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ ضلع قلات سے تین لاشیں ملی ہیں۔ قلات پولیس کے سربراہ زاہد شاہ کے مطابق دو لاشیں ریج کے علاقے جب کہ ایک لاش چھپر سے برآمد ہوئی۔

زاہد شاہد نے کہا کہ ابتدائی معلومات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان افراد کو گولیاں مارنے اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا، قلات سے ملنے والی تینوں لاشوں کی تاحال شناخت نہیں ہو سکی۔

ادھر قلات سے ملحقہ ضلع سوراب سے بھی مزید تین افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔ ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تینوں افراد گولیاں لگنے سے ہلاک ہوئے، تاہم انہیں کہاں اور کن حالات میں قتل کیا گیا، اس بارے میں معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

پولیس کے مطابق سوراب سے ملنے والی لاشوں کی بھی تاحال شناخت نہیں ہو سکی، جب کہ ان کے چہروں پر گولیوں کے نشانات موجود تھے۔

دریں اثنا ضلع خاران میں سی پیک روڈ کے قریب سے ساتویں لاش برآمد ہوئی، جس کی شناخت حافظ کبیر ایجباڑی کے نام سے کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: پیٹرول پمپ مالکان کی ملک گیر ’غیر معینہ مدت‘ کی ہڑتال کا اعلان

مقامی پولیس کے مطابق چند روز قبل نامعلوم مسلح افراد نے حافظ کبیر کے گھر پر حملہ کیا تھا، جس میں ان کا ایک بیٹا جاں بحق ہو گیا تھا، جب کہ حملہ آور حافظ کبیر اور ان کے ایک اور بیٹے کو اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دو روز بعد حافظ کبیر کی لاش سی پیک روڈ کے قریب سے ملی، جب کہ ان کے دوسرے بیٹے کے بارے میں تاحال کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔

خیال رہے کہ حکام نے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم تاحال کسی گروہ نے ان واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔