کوئٹہ میں انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان کے دفتر میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقات اور ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اعتزاز گورائیہ نے دعویٰ کیا ہے کہ رواں سال بلوچستان بھر میں 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو کے مطابق پریس کانفرنس میں نجی میڈیا کے کیمرہ مین مدعو نہیں تھے، جب کہ کانفرنس میں شریک صحافیوں نے بھی معمول کے برعکس فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کیں بلکہ انہیں مندرجات کے اجرا کے لیے کچھ دیر انتظار کرنا پڑا۔
ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں سال بہتر حکمت عملی اپنانے کے باعث سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں کمی آئی ہے، تاہم کالعدم تنظیموں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ رواں برس کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ امریکا نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو باقاعدہ طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر پاکستان کے مؤقف کو تقویت ملی ہے۔
حمزہ شفقات نے اس موقع پر کہا کہ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور معاونت کرنے والوں کے خلاف انٹرپول کے ذریعے کارروائیاں کی جائیں گی، تاکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورائیہ نے ایک واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اکتوبر کے مہینے میں ضلع خاران میں ایک ایس ایچ او کو ہلاک کیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد کی گئی کارروائیوں میں تین مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ان کے مطابق شدت پسندوں کا منصوبہ ایس ایچ او کو اغوا کر کے اس واقعے کو پروپیگنڈا مقاصد کے لیے استعمال کرنا تھا، تاہم مزاحمت پر انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے بتایا کہ اس گروہ کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے بھی کارروائیاں جاری ہیں۔






