اپنے جاری کردہ بیان میں نائب امیر جماعتِ اسلامی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں بھرپور طاقت کے استعمال کے باوجود امن قائم نہ ہو پانا ایک سنجیدہ سوال ہے، جو حکومتی حکمتِ عملی اور انٹیلی جنس نظام کی کارکردگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ سیکیورٹی پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے۔

مزید پڑھیں: یقین سے کہہ سکتا ہوں عمران خان کی صحت خراب نہیں پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، محمود اچکزئی

نائب امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ اگر دہشت گردی کے واقعات میں بیرونی عناصر ملوث ہیں تو حکومت اس حوالے سے قوم کو اعتماد میں کیوں نہیں لیتی اور ان عناصر کے خلاف مؤثر اور واضح اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان سمیت ملک کے دیگر علاقوں میں بیرونی دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور اندرونی مسائل کے حل کے لیے قومی ایکشن پلان کی ازسرِ نو تشکیل کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: تابش ہاشمی کا بیان سندھ کے عوام کی توہین ہے، شرجیل میمن

لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ محض طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ سیاسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن کے قیام کے لیے تمام سٹیک ہولڈرز، بشمول سیاسی جماعتوں، ریاستی اداروں اور عوامی نمائندوں کی مشاورت سے ایک متفقہ اور جامع پالیسی تشکیل دی جائے، تاکہ بلوچستان میں پائیدار امن اور عوام کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔