ایوان صدر میں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی اہمیت صرف جغرافیے تک محدود نہیں بلکہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے باعث یہ جنوبی ایشیا کو وسطی ایشیا اور مشرق وسطیٰ سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل، ساحلی پٹی اور تزویراتی محل وقوع قومی معیشت کی بنیاد ہیں۔ ریکوڈک، سی پیک اور سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) جیسے منصوبے صوبے کی معاشی ترقی کے لیے امید افزا ثابت ہو سکتے ہیں۔ وفاقی اداروں میں بلوچستان کے نوجوانوں کی نمائندگی بڑھانا قومی ترجیح رہی ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکج کو وفاق اور صوبے کے درمیان اعتماد کی بحالی کا تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پیکج کے ذریعے مالی خودمختاری، روزگار کے مواقع اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کو فروغ دیا گیا۔ بلوچستان کے عوام کی ثابت قدمی اور حوصلہ پوری قوم کے لیے باعث فخر ہے۔
انہوں نے کہا کہ سینیٹ بطور ایوانِ وفاق، صوبائی حقوق کے تحفظ اور متوازن ترقی کے لیے پرعزم ہے، جب کہ پارلیمان جمہوری اقدار، شفافیت اور بین الصوبائی ہم آہنگی کے فروغ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ ریاست بلوچستان کے عوام کے امن، ترقی، شمولیت اور آئینی حقوق کی مکمل پابند ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے بلوچستان کو درپیش موسمیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب اور شدید بارشوں سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ انہوں نے معدنی وسائل سے متاثرہ علاقوں میں مقامی آبادی کو ترقی کے ثمرات پہنچانے پر بھی زور دیا۔
سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ بلوچستان کے نوجوان صوبے کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں اور انہیں تعلیم، مہارتوں اور ریاستی اداروں میں مواقع دے کر امن، ترقی اور قومی یکجہتی کا علمبردار بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے شرکا پر زور دیا کہ وہ آئینی اقدار کا احترام کریں اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے مثبت کردار ادا کریں۔
چیئرمین سینیٹ نے نیشنل ورکشاپ بلوچستان کو قومی یکجہتی اور باخبر قیادت کے فروغ کی قابل تحسین کاوش قرار دیتے ہوئے منتظمین اور شرکا کو کامیاب انعقاد پر مبارکباد دی اور امید ظاہر کی کہ یہ ورکشاپ شرکا کو قومی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرنے کی ترغیب دی۔






