اجلاس میں بلوچستان میں دوطرفہ سرمایہ کاری کے امکانات، مختلف شعبہ جات میں مشترکہ منصوبوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو درپیش سہولیات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ شرکاء کو صوبے میں سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، حکومتی پالیسیوں اور جاری اصلاحاتی اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا۔
وائس چیئرمین بلال خان کاکڑ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے اور یہاں توانائی، معدنیات، زراعت، ماہی گیری اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں،سعودی سرمایہ کاروں کو مکمل تعاون، ون ونڈو آپریشن اور سرمایہ کاری دوست سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ ہو۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں ردّ الفتنہ-1 مکمل، دہشتگردوں کا منظم نیٹ ورک زمین بوس
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت بلوچستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے پالیسی اصلاحات پر عمل پیرا ہے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے لیے عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع کو مزید وسعت دی جائے گی، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان روابط بڑھانے پر بھی زور دیا گیا۔
سعودی وفد نے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے امکانات میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے مستقبل میں مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کی خواہش ظاہر کی۔







