بنگلہ دیش میں آج 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز قومی پارلیمنٹ کی 300 نشستوں کے لیے حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں۔ اس موقع پر صدر مملکت نے اپنے پیغام میں انتخابی عمل کی کامیابی کے لیے دعا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے انتخابی عمل بنگلہ دیش میں جمہوری اداروں کے استحکام اور سیاسی نظام کی مضبوطی کا باعث بنے گا،یہ عمل ملک میں امن، استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
انہوں نے بنگلہ دیش کے عوام کی جمہوری امنگوں کے لیے پاکستان کی نیک نیتی اور مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں جمہوری روایات، باہمی احترام اور تعمیری تعلقات کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے تشدد پر مبنی انتہاپسندی کے انسداد کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان امن، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے جبکہ شدت پسندی کے اسباب کا خاتمہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ پرتشدد انتہاپسندی انسانی حقوق اور وقارِ انسانیت کے منافی ہے، اس کے سدباب کے لیے مربوط اور مؤثر پالیسی اپنانا وقت کی ضرورت ہے،پاکستان اقوامِ متحدہ کے متعلقہ کنونشنز پر عملدرآمد کا پابند ہے اور عالمی سطح پر تعاون جاری رکھے گا۔
انہوں نے بتایا کہ قومی انسدادِ انتہاپسندی پالیسی 2024 کے تحت فعال اقدامات کیے جا رہے ہیں، یہ پالیسی انسانی حقوق، آئین اور قانون کی حکمرانی سے ہم آہنگ ہے،اسلامی تعلیمات اور انسانی حقوق کا عالمی منشور برداشت، مساوات اور احترامِ انسانیت کا درس دیتا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور اب دیرپا امن کے لیے تعلیم، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانونی ڈھانچے اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ انتہاپسندی کا مکمل خاتمہ ممکن ہو سکے۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری کاتشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن(بوقتِ سازگاری برائے دہشت گردی) کے موقع پر پیغام@AAliZardari
— PPP (@MediaCellPPP) February 12, 2026
مزید پڑھیں: https://t.co/TystP1I7kv pic.twitter.com/a3Umcwv9w1
انہوں نے کشمیر اور فلسطین کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کرنے کا مطالبہ کیا، انسدادِ انتہاپسندی کی کوششوں کو کسی مذہب یا ثقافت کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
اپنے پیغام میں صدر آصف علی زرداری نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے، نفرت انگیز تقاریر اور فیک نیوز کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خاندان اور معاشرہ انتہاپسند سوچ کے خلاف پہلی دفاعی لائن ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ تشدد کے بجائے امن اور اختلاف کے بجائے مکالمے کو فروغ دیا جائے تاکہ امید اور ہم آہنگی پر مبنی معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔







