بنگلادیش کی انٹرنیشنل کرائمز ٹریبونل-1 نے معزول و مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ اور ان کے دو اعلیٰ عہدیدار ساتھیوں کے خلاف گزشتہ سال جولائی کی بغاوت کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے جرم میں یہ فیصلہ دیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق شیخ حسینہ واجد پر 2024 میں طلبہ تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن کے احکامات اور وسیع پیمانے پر ہلاکتوں کا الزام تھا۔ اس کیس میں استغاثہ نے شیخ حسینہ کے لیے سزائے موت کی درخواست بھی کی تھی۔
مزید پڑھیں: جو ملک روس کے ساتھ کاروبار کرے گا، اُسے سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، صدر ٹرمپ
عدالتی فیصلے کے وقت ملک بھر میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں طلبہ مظاہروں کے دوران تقریباً 1400 افراد ہلاک ہوئے تھے، جس کے بعد یہ مقدمہ دائر کیا گیا۔







