بنگلہ دیش میں تبدیلی کے محرک عوام تھے جن زبردست احتجاج اور کامیاب حکمتِ عملی تھی۔ سب سے زیادہ پیش پیش سٹوڈنٹس تھے۔ عوام میں یہ غصہ تب پروان چڑھا جب حکومت کی طرف سے کوٹہ سسٹم میں ترمیم کرنے کے بارے میں بات ہوئی۔ یہ عوامی غیظ و غضب بنگلہ دیشی حکومت کے خاتمے کا سبب بنا۔ حکومت گرانے کے بعد عوام نے بنگلادیش کے بانی سمجھے جانے والے شیخ مجیب الرحمان کے مجسمے تک کو مسمار کر دیا، مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ کے حامیوں کے گھروں کو نذر آتش کر دیا اور حکومتی اراکین کے خلاف زبردست عوامی احتجاج نے جنم لیا۔ عوامی غیظ و غضب بنگلہ دیش میں عبوری حکومت کے قیام سے تھما اور ملک گیر احتجاج کا سلسلہ بھی تمام ہوا۔
بنگلہ دیش میں سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کو ملکی عدالت سے سزائے موت سنائی جاچکی ہے، انڈیا سے بنگلہ دیش لانے کی کوششیں بھی کی جارہی ہیں۔
ادھر بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے حوالے بگل بج چکا ہے، بنگلہ دیشی ووٹرز، سیاسی سپورٹرز میں انتہائی جوش و خروش پایا جاتا ہے۔
اب بہت سے لوگ یہ قیاس آرائیاں کرتے ہیں کہ شاید پاکستان میں بھی ایسے حالات رونما ہو سکتے ہیں۔ اگر ان قیاس آرائیوں پر غور کیا جائے تو سب سے پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہےکہ کیا پاکستانی عوام اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کے سامنے اس طرح کی بغاوت کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے؟ کیا یہ قیاس آرائیاں کبھی حقیقت کا روپ دھار سکتی ہیں یا پھر لفظی گولہ باری ہے؟
گزشتہ2 سال سے پاکستان شدید سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔ پاکستانی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے کردار اور سیاسی جماعتوں کی غیر منظم سیاسی حکمتِ عملی اس بحران کی سب سے بڑی وجہ ہے، اپریل 2022 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے حکومت سے بے دخل کیا گیا۔ جس کے بعد سابق وزیراعظم عمران خان کو مختلف مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور جیل بھی کاٹ رہے ہیں۔ مزید براں تحریک انصاف کے رہنماؤں پہ مسلسل پابندیاں اور مبینہ گمشدگیاں سیاسی بحران کو مزید بڑھاوا دے رہی ہیں۔
معاشی بحران توایک طرف یہاں تو سماجی مسائل بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ملک کو معاشی بحرانوں سے نکالنا ہے۔ حکومت کی جانب سے لگاتار توانائی سمیت روزمرہ زندگی میں استعمال ہونے والی تمام تراشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔
بلوچستان میں گمشدہ افراد کو لے کر مختلف تحریکیں جنم لے رہی ہیں اور عوام سڑکوں پر آنے لگے ہیں۔ اس مسئلے پہ بلوچستا ن کے لوگوں میں شدید غصہ پایا جاتا ہے۔ دوسری جانب خیبر پختونخوامیں کرم اور پارا چنار کے مسائل بھی عوام میں حکومت کے خلاف نفرت کی چنگاری کو ہوا دے رہے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسس کی مد میں بھی عوام پہ بوجھ بڑھ رہا ہے۔ ان تمام وجوہات کی بنا پر مہنگائی کی شدت میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ غربت کی شرح بڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں کے لیے نوکریوں کی عدم دستیابی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کا ختم ہونا ملک کو مزید مشکلات میں ڈال رہا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب مسلسل بڑھتا جا رہا ہے۔
اس وقت صرف جماعت اسلامی ہلکے پھلکے انداز میں احتجاج کرتی نظر آتی ہے، امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ’بدل دو نظام‘ تحریک کا اغاز کردیا ہے، انہوں نے یہ اعلان لاہور میں اجتماع سے خطاب میں کیا۔ ملک میں سیاسی بے چینی اور اسٹیبلشمنٹ کے بڑھتے ہوئے کردار کے حوالے سے ماہرین مختلف رائے رکھتے ہیں۔
گروپ ایڈیٹر سٹی نیوز نیٹ ورک (چینل 24) نوید چوہدری نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستانی نوجوانوں میں جو غم و غصہ پایا جاتا ہے یہ تب تک کسی نتیجے پہ نہیں پہنچ سکتا جب تک یہ کسی تحریک کی شکل نہ اختیار کر لے، اس وقت ہمارے ہاں تمام سیاسی قائدین تقسیم ہیں۔ اس بات سے ہی اندازہ لگا لیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان اس قدر مقبول ہونے کے باوجود بھی جیل میں ہیں اور اب تک کچھ نہیں ہوا۔ پی ٹی آئی جو سب سے بڑی نوجوانوں کی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتی ہے خان صاحب کی رہائی کے لئے کیا کر پائی ہے"۔
نوید چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ "یہ ضرور ہے کہ پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے لیکن بنگلادیش جیسی صورتحال یہاں پیدا ہونا ممکن نہیں۔ بنگلادیش میں حالات کچھ اور نوعیت کے تھے وہاں صرف بنگالی قوم رہتی ہےجب کہ پاکستان میں مختلف اقوام ہیں۔ شیخ حسینہ واجد نے جبر کا نظام رکھا لیکن ترقی بھی دی، یہاں پاکستان میں زیادہ مسائل ہیں۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اگر موجودہ احتجاج اور عوامی رویے کو قابو نہ کیا گیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔"
پاکستان میں عوام یکسو ہوکراپنے مطالبات کے حق میں نکلے،پہلے اسٹوڈنٹس باہر آئے بعد میں عام افراد بھی شامل ہوگئے،مگر پاکستان میں صورتحال مختلف ہے؟
گورنمنٹ کالج آف سائنس وحدت روڈ لاہور کے شعبہ ابلاغیات کے سربراہ ڈاکٹر شفاعت علی ملک نے پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "پاکستان اور بنگلہ دیشں کے سیاسی اور سماجی حالات میں کسی بھی مماثلت کی بنا پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پاکستان میں بنگلہ دیش جسے حالات یا بغاوت کا کوئی خدشہ ہے۔ بنگلہ دیش کے برعکس پاکستان ایک ملٹی کلچر سوسائٹی ہے جس میں مختلف روایات کے حامل لوگ آباد ہیں، یہ روایات چاہے وہ مذہبی ، نسلی، سماجی یا سیاسی ہوں کبھی بھی پورے پاکستان کی سوچ یکساں نہیں ہونے دیں گی۔ جب تک ہر صوبے یا علاقے کے ترجیحات اور مفادات مختلف رہیں گے تب تک پاکستان میں بنگلہ دیش جیسے حالات یا بغاوت کا کوئی خدشہ نہیں"۔
ڈاکٹر شفاعت علی ملک نے مزید کہا کہ "بنگلہ دیش میں رسومات، اقدار، سماج ، نسل یا مذہب کی بنیاد پر اتنی زیادہ تقسیم نہیں جتنی پاکستان میں ہے۔ پاکستان میں موجود طبقاتی، سماجی ، نسلی ، سیاسی اور مذہبی تقسیم پاکستانیوں کو کبھی کسی ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا نہیں ہونے دے گی۔ تاریخ میں پاکستان میں چلنے والی آج تک کی تمام تحریکیں چاہے وہ مذہبی ہوں یا سیاسی ان کے پیچھے کوئی نہ کوئی محرک تھا۔ کسی ادارے، گروہ یا پریشر گروپ کی حمایت کے بغیر ایسی کوئی تحریک چلائی گئی ہے نہ ہی کامیاب ہو ئی ہے۔ موجودہ تناظر میں پاکستان میں فی الحال ایسا کوئی محرک نظر نہیں آ رہا جو سب کو ایک پلیٹ فارم یا کسی ایک نقطہ پر اکٹھا کر سکے"۔
یونیورسٹی آف سینٹرل پنجاب لاہور کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات اور سیاسیات کے اسسٹنٹ پروفیسر عرفان علی فانی نے پاکستان میٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت کے خلاف عوامی غیظ وغضب پاکستان میں بنگلہ دیش جیسی تحریک کو جنم نہیں دے سکتا، حکومت کے خلاف مزاحمتی تحریک میں ریاست کے معاشرتی ڈھانچے کا سٹرکچر بہت اہم کردار ادا کرتا ہے"۔
جماعت اسلامی نئے بلدیاتی قانون کی مخالفت کیوں کررہی ہے؟
بنگلا دیشی عوام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ "پاکستان کی تشکیل و تحریک میں بنگالیوں کا بہت اہم کردار رہا ہے۔ مسلم لیگ کا بننا بھی وہیں سے شروع ہوا اور بنیاد ڈھاکہ میں رکھی گئی۔ تحریکِ پاکستان میں بنگالیوں کا کردار نمایاں تھا، دراصل ان میں ابتدا سے ہی قدرتی مزاحمت پائی جاتی ہے اور جب وہ کوئی فیصلہ کرلیتےہیں تو پیچھے نہیں ہٹتے۔ 1971 میں بھی جب انھوں نے الگ ملک لینے کا فیصلہ کیا تو پھر لے کر ہی دم لیا۔ اس کے علاوہ وقتاً فوقتاً جب بھی وہاں کوئی مسئلہ درپیش آیا ہے تو زبردست تحریک دیکھنے کوملی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان میں ابھی تک اس طرح کی کوئی بڑی تحریک دیکھنے کو نہیں ملی"۔
پاکستان کی موجودہ صورتِحال پر بات کرتے ہوئے پروفیسر عرفان علی فانی نے کہا کہ "پاکستان کو اگر دو حصوں مشرقی جوکہ پنجاب اور سندھ پر مشتمل ہے اور مغربی جوکہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پر مشتمل ہے میں تقسیم کیا جائے توجو مشرقی حصہ ہے اس میں تاریخی طور پر آج تک کوئی بڑی مزاحمت نہیں ہوئی۔ لودھی، تغلق، مغل یہاں تک کہ جتنے بھی بیرونی حملہ آور آئے لوٹ مار کی یہاں سے کسی نے بھی مزاحمت نہ کی بلکہ ان لوگوں نے انھیں اپنا آقا تسلیم کرنے میں ذرا بھی دیر نہ کی۔ اس کے برعکس مغربی حصے میں ہمیشہ سے ہی جب بھی کوئی مشکل آئی زبردست مزاحمت ہوئی اور تحریکِ پاکستان میں مشرقی حصے کی نسبت مغربی حصے کے لوگوں نے نمایاں کردار ادا کیا"۔
پاکستان میں عوامی تحریک کے جنم پر بات کرتے ہوئے پروفیسر عرفان علی فانی نے کہا کہ "پنجاب اور سندھ کی بات کی جائے تو نہ ہی فی الحال اور نہ ہی مستقبل قریب میں کوئی ایسی صورتِحال نظرآتی ہے کہ یہاں کوئی تحریک جنم لے گی، البتہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مستقبل قریب میں بغاوت دیکھنے کومل سکتی ہے"۔ بغاوت کے پس منظر کو لے کر انھوں نے کہا کہ "دنیا بھر میں جتنی بھی بغاوتیں ہوئی ہیں انھوں نے مختلف مراحل طے کیے ہیں۔
پہلے بغاوت صرف زبان سے ہوتی ہے، پھرجسمانی سرگرمیوں میں دیکھائی دیتی ہے اور اس کے بعد پھر وہ عام گوریلا وار جیسی سرگرمیوں میں تبدیل ہو جاتی ہے جوکہ سول وار کی وجہ بنتی ہیں۔ اس وقت کہیں بھی ایسا نظر نہیں آتا کہ مستقبل قریب میں پنجاب اور سندھ میں کوئی بغاوتی تحریک جنم لے گی ابھی تاریخ کو کچھ وقت لینا ہوگا"۔
دنیا بھر میں تحریک چلتی ہیں، کچھ کامیاب ہوتی ہیں تو کچھ ناکامی کا سامنا کرتی ہیں، ماہرین کی رائے اور موجودہ حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں فی الحال بنگلہ دیش کے طرز کی کسی تحریک کے چلنے کے امکانات نا ہونے کے برابر ہیں، اگر معاشی اور سماجی انصاف کو بحال نہ کیا گیا تو حالات بگڑ سکتے ہیں۔







