ریجنل پولیس افسر (آر پی او) بنوں سجاد خان کے مطابق حملہ مامش خیل کے علاقے میں پیش آیا۔ مسلح افراد نے اچانک ڈی پی او شمالی وزیرستان کی گاڑی کو نشانہ بنایا تاہم خوش قسمتی سے ڈی پی او محفوظ رہے۔
زخمی اہلکاروں کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ آر پی او کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے بعد حملہ آور قریبی علاقے میں فرار ہو گئے، جن کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
مزید پڑھیں: خیبرپختونخوا پولیس کو سنگین مالی مسائل کا انکشاف: ’فوج کے بغیردہشتگردی پر قابو پانا ممکن نہیں‘
واضح رہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جب سے نومبر 2022 میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے حکومت کے ساتھ جنگ بندی ختم کی تھی۔
گزشتہ چند ماہ سے سیکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں پر حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ گزشتہ روز ہنگو میں بم دھماکے کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے تھے، جب کہ گزشتہ ہفتے بنوں ایئرپورٹ روڈ سے ایک پولیس اہلکار کو دہشت گردوں نے اغوا کر لیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان اور ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن، تین خوارج ہلاک
دوسری جانب ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (PICSS) کی تازہ رپورٹ کے مطابق اکتوبر 2025 کے دوران عسکریت پسندوں کو گزشتہ 10 برسوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ جانی نقصان اٹھانا پڑا۔







