پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق کارروائی کے دوران ایک لیفٹیننٹ کرنل سمیت دو جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق آپریشن اس اطلاع پر کیا گیا کہ علاقے میں مسلح شدت پسند موجود ہیں، جن میں ایک خودکش حملہ آور بھی شامل تھا۔
سیکیورٹی فورسز نے بارودی مواد سے بھری گاڑی میں سوار خودکش حملہ آور کو بنوں شہر میں داخل ہونے سے پہلے ہی روک لیا، یوں ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔
کارروائی کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں پانچ دہشت گرد مارے گئے۔ تاہم حملہ آوروں نے ایک گاڑی کو دھماکا خیز مواد سے بھر کر فوجی قافلے کی گاڑی سے ٹکرا دیا، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز (عمر 43 سال، ضلع مانسہرہ کے رہائشی) اور سپاہی کرامت شاہ (عمر 28 سال، ضلع پشاور کے رہائشی) شہید ہو گئے۔
آئی ایس پی آر نے الزام عائد کیا کہ افغان طالبان حکام دہشت گردوں کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں مقام سے قطع نظر جاری رہیں گی۔
فوج کے مطابق ویژن عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشت گردی مہم پوری شدت سے جاری رہے گی تاکہ ملک دشمن عناصر کا خاتمہ کیا جا سکے۔
یہ آپریشن 17 فروری کو ضلع باجوڑ میں ہونے والے حملے کے بعد کیا گیا، جس میں 11 سیکیورٹی اہلکار شہید اور جوابی کارروائی میں 12 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
مزید پڑھیں: حکومت ٹرمپ کی خوشنودی میں مصروف، عوام مہنگائی اور بدانتظامی کا شکارہے: حافظ نعیم الرحمان
آئی ایس پی آر کے مطابق 2025 کے دوران ملک بھر میں 75 ہزار سے زائد انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، جن میں سے بڑی تعداد خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ہوئی۔
گزشتہ سال ملک بھر میں 5 ہزار 397 دہشت گردی کے واقعات رپورٹ ہوئے، جب کہ انسداد دہشت گردی کارروائیوں میں 2 ہزار 597 شدت پسند مارے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں ملک میں امن کے قیام کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔







