یہ واقعہ تھانہ ہوید کی حدود میں موسیٰ خیل کے قریب شیر مندائی ہائی اسکول میں پیش آیا۔

بنوں کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر (ڈی پی او) سلیم عباس کلاچی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس مغویوں کی بازیابی کے لیے علاقے میں موجود ہے اور سرچ آپریشن جاری ہے۔

دوسری جانب، بنوں میں اساتذہ کی تنظیم کا ہنگامی اجلاس بدھ کے روز طلب کر لیا گیا ہے، جس میں مغویوں کی بازیابی کے لیے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ ضلع بنوں میں سرکاری ملازمین کے اغوا کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، بلکہ ماضی میں بھی ایسے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ ستمبر میں پشاور الیکٹرک سپلائی کمپنی (پیسکو) کے پانچ ملازمین کو اس وقت اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ بکّا خیل کے مقام پر ہائی وولٹیج سپلائی لائن پر کام کر رہے تھے۔ ان ملازمین کو تاحال بازیاب نہیں کروایا جا سکا۔اس سے قبل بھی دو سرکاری ملازمین کو اغوا کیا گیا تھا جنھیں بعد میں مقامی افراد کی مدد سے بازیاب کروا لیا گیا۔

رواں برس اپریل میں بھی ایک اسکول ٹیچر کو اغوا کیا گیا تھا، جنھیں مئی کے مہینے میں بازیاب کروا لیا گیا۔اس سے قبل انہی علاقوں میں سات پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا گیا تھا، جنھیں مقامی لوگوں کی کوششوں سے بازیاب کروا لیا گیا۔

اغوا کے یہ واقعات صرف ضلع بنوں تک محدود نہیں ہیں، بلکہ شمالی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک، جنوبی وزیرستان اور کلاچی میں بھی تواتر سے ایسے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

جنوبی اضلاع کے انتظامی افسران کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایسی ہدایات جاری کی جاتی رہی ہیں جن میں سرکاری ملازمین کو ان علاقوں میں غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔