سینیٹر عرفان صدیقی کی یاد میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطاتارڑ کا کہنا تھا کہ عرفان صدیقی کی شخصیت کا منفرد پہلو یہ تھا کہ ان کے سوگوار صرف خاندان تک محدود نہیں، بلکہ ہم سب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علمی طبقہ، صحافتی شعبے اور سیاست کے تمام شعبوں سے عرفان صدیقی نے محبت اور تعلق قائم رکھا۔ انہوں نے اپنی پہلی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات ایوان صدر میں ہوئی جب میری عمر پندرہ سولہ سال تھی۔
لازمی پڑھیں: میئر کراچی نے تمام ادارے اپنے کنٹرول میں لے لیے، قبضے کے خلاف مزاحمت کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
عطا تارڑ نے کہا کہ برے وقت میں عرفان صدیقی کبھی گھبراتے نہیں تھے بلکہ ہم سب کے لیے حوصلے کا باعث بنتے۔ ان کا یہ نقصان صرف خاندان کا نہیں بلکہ پوری قوم کا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ جب انہیں ایک بے بنیاد کیس میں گرفتار کیا گیا تو انہوں نے قلم بلند کر کے حقائق کو سامنے رکھا اور اس گرفتاری پر خود قانون شرمندہ ہوا۔
وفاقی وزیر اطلاعات نے اعلان کیا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی یاد میں سکالر شپ کا آغاز کیا جا سکتا ہے اور ان کی یادوں کو زندہ رکھنے کے لیے ایک کمیٹی آج قائم کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: #قبضہ میئر استعفیٰ دو سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن گیا
عطا تارڑ نے کہا کہ میرے دادا سابق صدر رفیق تارڑ کے وہ بااعتماد ساتھی تھے اور ہر معاملے میں ان سے مشاورت کرتے تھے، جب کہ قائد مسلم لیگ ن نواز شریف بھی ان سے مشاورت کیا کرتے تھے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سینیٹر عرفان صدیقی کی وفات پر سوشل میڈیا پر جو بھی غیر مناسب رویہ اختیار کیا گیا اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔







