یہ باتیں “بریتھ پاکستان انٹرنیشنل کلائمیٹ کانفرنس 2026” میں “پاکستان کی صاف توانائی کی جانب منتقلی” کے عنوان سے ہونے والے ایک پینل مباحثے میں سامنے آئیں۔ ماہرین نے موجودہ عالمی توانائی بحران کو “بلیک سوان ایونٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستان میں بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی کے انقلاب کو مزید تیزی مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پاکستان نے حالیہ بحران کے دوران دیگر ممالک کے برعکس بڑے پیمانے پر ایندھن کی قلت کا سامنا نہیں کیا، جس کی بڑی وجہ درآمدی فوسل فیول پر انحصار میں کمی اور سولر توانائی کے استعمال میں نمایاں اضافہ ہے۔
توانائی مالیات کی ماہر حنیہ اسعاد نے کہا کہ پاکستان میں سولر توانائی کی جانب منتقلی کو 2022 کی روس-یوکرین جنگ کے بعد تیزی ملی، جس کے نتیجے میں تیل، گیس اور کوئلے کی کھپت میں واضح کمی آئی۔ ان کے مطابق 2021 سے 2025 کے دوران تقریباً 50 گیگاواٹ سولر پینلز درآمد کیے گئے، جن میں سے بڑی تعداد نصب ہو چکی ہے، جس نے حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھنے میں مدد دی۔
لمز انرجی انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر نوید ارشد نے کہا کہ ایران-امریکا تنازع سمیت عالمی توانائی جھٹکے مستقبل میں توانائی ذخیرہ کرنے والے نظاموں میں سرمایہ کاری کو مزید تیز کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کا توانائی نظام اب مرکزی گرڈ سے نکل کر تقسیم شدہ ماڈل کی طرف جا رہا ہے، جس میں سولر، بیٹری اسٹوریج، مائیکرو گرڈز اور ڈیجیٹلائزیشن اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ تبدیلی بڑی حد تک کسی براہِ راست ماحولیاتی مالی معاونت کے بغیر ہوئی، جسے انہوں نے “گرڈ کی غیر معمولی ارتقا” قرار دیا۔
دیگر ماہرین نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی اب پہلے سے کہیں زیادہ سستی ہو رہی ہے، جبکہ گزشتہ ایک دہائی میں سولر اور بیٹریوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق اب توانائی ذخیرہ کرنے والی ٹیکنالوجی پاکستان کی توانائی منتقلی کا سب سے اہم اور کمیاب عنصر ہے۔
بین الاقوامی قابلِ تجدید توانائی ایجنسی (آئرینا) سے وابستہ کامران صدیقی نے گرڈ انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری بڑھانے اور نیٹ میٹرنگ سمیت توانائی ماڈلز سے متعلق واضح پالیسی کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ سولر بیٹریوں کی درآمد میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ گھریلو اور تجارتی صارفین قومی گرڈ پر انحصار کم کرنے کے لیے ذخیرہ توانائی کے حل کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جیسے جیسے سولر توانائی کا استعمال بڑھے گا، روایتی بجلی کے نظام کو بھی خود کو تبدیل کرنا ہوگا، کیونکہ اب صارفین کو خودکار طور پر بجلی فراہم کرنے کے بجائے گرڈ کو مقابلے کی بنیاد پر خدمات دینا ہوں گی۔






