ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے گفتگو کے دوران خطے میں بحری آمدورفت کی سیکیورٹی، فوجی حکمت عملی اور لاجسٹک معاملات پر غور کیا۔ رابطے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حرکت کی بحالی فوری اور ناگزیر ہے۔
سر کئیر اسٹارمر نے گفتگو کے دوران خلیجی ممالک کے رہنماؤں اور فوجی ماہرین کے ساتھ اپنی حالیہ مشاورت سے بھی امریکی صدر کو آگاہ کیا،برطانیہ اس سلسلے میں ایک مربوط اور قابلِ عمل منصوبہ تشکیل دینے کے لیے اپنے شراکت دار ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ خطے میں استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ صورتحال اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ بحری تجارت کے عالمی راستوں کی جلد بحالی عالمی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہے۔
ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ کے مطابق گفتگو کے دوران اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ دونوں ممالک قریبی رابطے میں رہیں گے اور آئندہ دنوں میں اس حوالے سے مزید مشاورت کی جائے گی۔ حکام کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جلد دوبارہ رابطے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی تجارت کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اور اسی وجہ سے بڑی عالمی طاقتیں اس معاملے کے حل کے لیے سرگرم ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے کا پائیدار حل نکل آتا ہے تو عالمی توانائی سپلائی چین اور بحری تجارت پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ اس میں تاخیر عالمی منڈیوں میں مزید غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔







