ریسکیو حکام کے مطابق افسوسناک واقعہ باغبانپورہ کے علاقے میں سکھ نہر کے قریب پیش آیا، جہاں 25 سالہ علی رشید کٹی ہوئی پتنگ اتارنے کے لیے بجلی کے کھمبے پر چڑھ گیا۔ اس دوران اسے شدید کرنٹ لگا، جس کے باعث وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ ریسکیو اہلکاروں نے لاش کو اسپتال منتقل کر دیا۔
دوسری جانب ڈیفنس فیز 5 میں پتنگ کی ڈور گردن پر پھرنے سے نوجوان رافع شدید زخمی ہو گیا، جسے فوری طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسی طرح گلشنِ راوی میں بھی پتنگ بازی کے دوران پیش آنے والے دو الگ الگ واقعات میں 8 سالہ ارسا اور 45 سالہ شبیر پتنگ کی ڈور سے زخمی ہو گئے۔
ریسکیو حکام کے مطابق لوئر مال کے علاقے میں 12 سالہ عبد الواحد پتنگ لوٹتے ہوئے گر کر زخمی ہو گیا، جبکہ گلشنِ راوی ہی میں 14 سالہ سلمان درخت پر چڑھ کر پتنگ اتارنے کی کوشش میں زخمی ہو گیا۔
مزید پڑھیں: لاہور میں بسنت کے موقع پر موسم کی صورتحال کیا رہے گی؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
ریسکیو اہلکاروں کا کہنا ہے کہ تمام زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ بعض افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
واقعے کے بعد شہریوں نے بسنت کے دوران پتنگ بازی پر مؤثر پابندیوں اور حفاظتی اقدامات کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ دھاتی ڈور اور غیر محفوظ طریقے سے پتنگ بازی ہر سال قیمتی جانیں لے لیتی ہے، مگر اس کے باوجود حادثات کا سلسلہ رک نہیں پا رہا۔







