پاکستان کے مطابق کثیرالجہتی نظام کو زندہ رکھنے کے لیے طاقت کے بجائے قانون، مصلحت کے بجائے اصول اور بے سزا رویوں کے بجائے انصاف کو ترجیح دینا ہوگی۔

یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندے سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب میں کہی، جس کا موضوع عالمی قانون کی حکمرانی، امن، انصاف اور کثیرالجہتی نظام کی بحالی تھا۔

سفیر عاصم افتخار نے سلامتی کونسل کی موجودہ صدارت پر صومالیہ کو مبارکباد دیتے ہوئے مباحثے کو بروقت اور اہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اجلاس اقوامِ متحدہ، کثیرالجہتی نظام اور بین الاقوامی قانون پر جاری اعلیٰ سطحی سفارتی مکالمے کا تسلسل ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بین الاقوامی قانون کے احترام میں کمی عالمی تنازعات، انسانی بحرانوں اور کمزور کثیرالجہتی تعاون کا سبب بن رہی ہے۔ ان کے مطابق جب قانون کا اطلاق انتخابی ہو جائے تو وہ اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور کے بنیادی اصول شدید دباؤ کا شکار ہیں اور یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانا اجتماعی سلامتی اور اداروں کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ مئی میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف بلااشتعال فوجی جارحیت بین الاقوامی قانون اور پاکستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی تھی۔ ان کے مطابق پاکستان نے منشور کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے حقِ دفاع کو ذمہ دارانہ اور متناسب انداز میں استعمال کیا۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا جموں و کشمیر پر غیرقانونی قبضہ ہے جو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت سے انکار انسانی حقوق کے سنگین مسائل کو جنم دے رہا ہے۔

انہوں نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بھی بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا ناقابلِ قبول ہے اور معاہدوں کی پاسداری عالمی قانونی نظام کی بنیاد ہے۔

پاکستان نے تنازعات کے پُرامن حل سے اپنی وابستگی دہراتے ہوئے سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کا حوالہ دیا جس میں مکالمے، ثالثی اور عدالتی تصفیے کو ترجیح دی گئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ دہرا معیار اور قوانین پر عدم عملدرآمد کے باعث عالمی نظام اکثر ترقی پذیر ممالک، بالخصوص عالمی جنوب، کی توقعات پر پورا نہیں اترا، اس کے باوجود یہ ممالک ایک منصفانہ عالمی نظام پر اعتماد رکھتے ہیں۔

انہوں نے فلسطین کی صورتحال کو بین الاقوامی قانون کے انتخابی اطلاق کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد اقوامِ متحدہ کی ساکھ کے لیے ناگزیر ہے۔

پاکستان نے تجاویز پیش کیں کہ سلامتی کونسل اپنی قراردادوں پر عملدرآمد کی مؤثر نگرانی کرے، بین الاقوامی عدالتِ انصاف سے زیادہ منظم رجوع کیا جائے اور قانونی امور پر ادارہ جاتی بریفنگز کو مضبوط بنایا جائے۔

سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ عالمی قانون کی حکمرانی الفاظ سے نہیں بلکہ عمل سے قائم ہوتی ہے اور پاکستان ایک ایسے عالمی نظام کے لیے پُرعزم ہے جہاں امن، انصاف اور انسانی وقار کی حقیقی ضمانت ہو۔