چیئرمین رویت ہلال کمیٹی و خطیب بادشاہی مسجد مولانا عبد الخبیر آزاد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم سب مسلمان بھائی ہیں اور ہمارے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، اتحاد میں ہی اصل دین کی روح پوشیدہ ہے۔

انہوں نے تمام معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے ان کی شرکت کو باعثِ برکت قرار دیا۔

تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنے والے فرزندِ پاکستان ڈاکٹر قیصر رفیق نے مولانا عبد الخبیر آزاد کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز ہم سب کو جان سے زیادہ عزیز ہے اور اگر ملک میں امن، محبت اور بھائی چارہ قائم ہو جائے تو پاکستان مزید ترقی کر سکتا ہے۔


انہوں نے اتحاد و یگانگت کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو قابل تحسین قرار دیا۔ بانی خیال نو سید حنین زیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس مشن کو ہر سال دہرانے کا مقصد ملک بھر میں وحدت کا پیغام عام کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ بین المسالک افطار اور اجتماعی عبادات کا یہ پیغام اب ملک کے مختلف حصوں تک پھیل چکا ہے اور دیگر تنظیمیں بھی اس روایت کو آگے بڑھا رہی ہیں۔

سیکریٹری اطلاعات اور نوجوان سماجی کارکن سید شہزاد روشن گیلانی نے کہا کہ تاریخی مقام پر منعقد ہونے والا یہ با مقصد افطار رمضان المبارک کے دیگر افطاری پروگراموں میں منفرد حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر مذہبی رہنما اور قومی ادارے تعاون کریں تو اسی مقام پر عالمی سطح پر مذہبی و مسلکی ہم آہنگی کا ریکارڈ قائم کیا جا سکتا ہے۔


افطار کے بعد تمام مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے مولانا عبد الخبیر آزاد کے فرزند مولانا عبد الحازق کی امامت میں نماز ادا کی۔

تقریب میں صدر خیال نو اسد اعوان، عامر کاظمی، میثم شمسی، وجاہت شاہ، خواجہ اسامہ زیشان، تحسین قادری، شائق علی لاہوری سمیت دیگر شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کے اختتام پر مولانا عبد الخبیر آزاد نے وطن عزیز کی سلامتی، ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعا کی جب کہ ایران کے حق میں بھی دعا کروائی گئی۔