بدھ کو بلوچستان کے اضلاع کوئٹہ اور بارکھان میں محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے کارروائیاں کیں۔ پولیس کے مطابق 14 عسکریت پسند مارے گئے، جب کہ جھڑپوں میں سی ٹی ڈی کے تین اہلکار زخمی ہوئے۔

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے بیان میں کہا کہ سی ٹی ڈی بلوچستان عسکریت پسندوں کے خلاف جنگ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان میں حالیہ برسوں میں عسکریت پسند حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، خاص طور پر بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں۔ 31 جنوری کو بلوچستان کے مختلف اضلاع میں مربوط حملے کیے گئے۔

مزید پڑھیں: غیر حل شدہ سیاسی تنازعات دنیا کو بارود کے ڈھیر میں بدل رہے ہیں: شہباز شریف

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں 216 عسکریت پسند مارے گئے، جب کہ 36 شہری اور 22 سکیورٹی اہلکار جان سے گئے۔

حکومت اور آئی ایس پی آر کے بیانات میں کہا گیا کہ 31 جنوری کے حملے  انڈین حمایت یافتہ  عناصر نے کیے۔

بلوچستان، جس کی سرحدیں ایران اور افغانستان سے ملتی ہیں، کئی دہائیوں سے علیحدگی پسندی اور شورش کا سامنا کر رہا ہے۔ یہ صوبہ معدنی وسائل سے مالا مال ہے اور گوادر کی گہرے پانی کی بندرگاہ سمیت بڑے منصوبوں میں چینی سرمایہ کاری کا مرکز سمجھا جاتا ہے، جو اسے جغرافیائی اور معاشی اعتبار سے اہم بناتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی آپریشنز کا مقصد نہ صرف شدت پسند نیٹ ورکس کا خاتمہ ہے بلکہ خطے میں استحکام اور ترقیاتی منصوبوں کا تحفظ بھی ہے۔