پولیس ذرائع اور اہل خانہ کے مطابق واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب مبینہ ڈکیتی کی واردات کے دوران سی سی ڈی اہلکاروں نے ایک گاڑی کو مشتبہ سمجھتے ہوئے اس پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد موقع پر جاں بحق ہو گئیں جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق متاثرہ خاندان آسٹریلیا کے شہری عدیل احمد پر مشتمل تھا جو اپنی اہلیہ ڈاکٹر سدرہ خان اور بچوں کے ہمراہ حال ہی میں پاکستان آیا تھا۔ اہل خانہ کچھ روز قبل ہی عمرے کی ادائیگی کے بعد وطن واپس پہنچے تھے۔
معلومات کے مطابق واقعے سے کچھ دیر قبل علاقے میں دو مسلح موٹرسائیکل سواروں نے مبینہ طور پر خاندان کی گاڑی کو روکا اور اسلحے کے زور پر نقدی اور زیورات چھین لیے۔ عینی شاہدین کے مطابق ڈاکو واردات کے بعد فرار ہو رہے تھے کہ اسی دوران سی سی ڈی اہلکار وہاں پہنچ گئے اور صورتحال کو مشکوک سمجھ لیا۔
پولیس حکام کے مطابق ایک اہلکار نے مشتبہ ڈاکوؤں کے تعاقب میں فائرنگ شروع کی، تاہم اسی دوران متاثرہ خاندان کی گاڑی وہاں سے نکل رہی تھی جسے مبینہ طور پر ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر نشانہ بنا لیا گیا۔ فائرنگ کے باعث گاڑی میں موجود افراد شدید زخمی ہو گئے۔
ایک سینئر پولیس افسرنے کہا کہ صورتحال اس وقت مزید الجھ گئی جب فائرنگ کے شور اور خوف کے باعث گاڑی تیزی سے روانہ ہوئی، جسے اہلکاروں نے مشتبہ گاڑی سمجھ کر دوبارہ نشانہ بنایا۔ بعد ازاں معلوم ہوا کہ گاڑی میں ایک بے گناہ خاندان موجود تھا جو خود ڈکیتی کا شکار ہوا تھا۔
واقعے کے بعد سی سی ڈی کی جانب سے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ راولپنڈی ریجن کے افسران اور ضلعی پولیس حکام نے واقعے کی شفاف تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) چکوال کاشف ذوالفقار نے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی قسم کی غفلت یا غلط فہمی میں ملوث اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ ان کے مطابق تمام پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں اور واقعے کے بعد ایک اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے اور مکمل چھان بین کے لیے ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے جو تمام شواہد، عینی شاہدین کے بیانات اور پولیس کارروائی کا جائزہ لے گی۔
مزید پڑھیں: راولپنڈی: بیوی نے شوہر پر تیزاب پھینک دیا
زخمیوں کو فوری طور پر راولپنڈی منتقل کیا گیا جہاں عدیل احمد اور ان کے بیٹے عفان احمد کی سرجری کی گئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق والد کی حالت بہتر ہے جبکہ بچے کا علاج جاری ہے۔ واقعے میں خاندان کی خاتون رکن ڈاکٹر سدرہ خان محفوظ رہیں۔
ادھر مقتولہ ہانیہ احمد کے اہل خانہ نے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس افسوسناک سانحے کے تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ اہل خانہ کے مطابق یہ واقعہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور انصاف کی فراہمی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ علاقے میں پیش آنے والی ڈکیتی کی واردات اور بعد میں ہونے والی فائرنگ کے دوران ایک مبینہ ڈاکو مارا گیا ہے جس کی شناخت محمد فیاض کے نام سے ہوئی ہے۔ پولیس کے مطابق ہلاک ملزم مختلف اضلاع میں سنگین جرائم میں مطلوب تھا اور اس کے دیگر وارداتوں میں بھی ملوث ہونے کی تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی شواہد کی بنیاد پر واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ذمہ داری کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد کیا جائے گا۔







