تقریب سے خطاب میں چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معاشی اور سیاسی طاقتوں کے درمیان تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پوری دنیا کے سیاسی و اقتصادی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، اس لیے ان تعلقات کو ذمہ داری اور سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھانا ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین اور امریکا جب تعاون کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف دونوں ممالک کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ عالمی سطح پر استحکام اور ترقی کو بھی فروغ ملتا ہے، جبکہ تصادم اور کشیدگی دونوں فریقوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

چینی صدر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور تعاون کے اصولوں کو بنیاد بنا کر اپنے تعلقات کو نئی سمت دینا چاہیے۔

اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کی مجموعی آبادی 1.7 ارب سے زائد افراد پر مشتمل ہے، اس لیے یہ ایک تاریخی ذمہ داری ہے کہ چین اور امریکا اپنے تعلقات کو درست سمت میں لے کر جائیں تاکہ عالمی امن اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور امریکا کے تعلقات کو ایک بڑے اور اہم “جہاز” سے تشبیہ دی جا سکتی ہے جسے درست سمت میں لے جانا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے، تاکہ یہ تعلقات غیر یقینی صورتحال سے محفوظ رہیں اور مستحکم انداز میں آگے بڑھیں۔

 اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے دونوں ممالک کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے ایک مختصر ٹوسٹ بھی پیش کیا اور امید ظاہر کی کہ چین اور امریکا کے درمیان تعلقات مزید مضبوط اور مثبت سمت میں آگے بڑھیں گے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ملاقات کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات ہمیشہ اہم رہے ہیں اور دونوں ممالک مل کر عالمی معیشت اور امن کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔