سن یان نے کہا کہ سی پیک 2.0 سے تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور صنعت، زراعت اور معدنیات کے شعبے اس منصوبے کا محور ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چینی زبان سیکھنے والے افراد مستقبل کی تجارت میں اہم کردار ادا کریں گے اور پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہیں۔

چینی قونصل جنرل نے گوادر پورٹ، قراقرم ہائی وے اور خنجراب پاس جیسے علاقائی رابطوں کے اہم منصوبوں پر بھی زور دیا اور کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کے 75 سال مزید مضبوطی کی علامت ہیں۔

صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو چینی منڈی تک زیادہ رسائی دی جائے اور چین پاکستان کا بڑا تجارتی شراکت دار ہے، تاہم تجارتی عدم توازن کم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی برآمدات 2.5 ارب ڈالر جبکہ درآمدات 16 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔ فہیم الرحمن سہگل نے زراعت، آئی ٹی، ٹیکسٹائل، لیدر اور سرجیکل سیکٹر میں برآمدات بڑھانے کی بڑی صلاحیت کے ساتھ ساتھ خصوصی اقتصادی زونز میں چینی سرمایہ کاری کے مواقع اور آئی ٹی، قابل تجدید توانائی اور الیکٹرک وہیکلز میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔

نائب صدر خرم لودھی نے کہا کہ چینی زبان سیکھنے سے تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔