حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موٹر سائیکل، رکشا، چنگچی اور چھوٹی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف کی وزیراعظم کی اسکیم کا جائزہ لیا جائے گا اور اس حوالے سے آج رات جماعت اسلامی اپنا موقف دے گی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے اعلان کردہ ریلیف اسکیم سے پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کی جاری جدوجہد پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے تک لانگ مارچ اور دھرنے جاری رہیں گے۔

وزیراعظم کی خصوصی ریلیف اسکیم کیا ہے؟

اس سے قبل وزیراعظم ہاؤس سے جاری بیان میں وزیراعظم نے کہا تھا کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عوام پر پڑنے والے بوجھ کا حکومت کو مکمل احساس ہے اور مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

وزیراعظم کے مطابق خصوصی ریلیف اسکیم کے تحت موٹر سائیکل، رکشا، چنگچی سمیت دو اور تین پہیوں والی سواریوں کے لیے ماہانہ 20 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف دیا جائے گا۔

اسی طرح 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 30 لیٹر پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر ریلیف فراہم کیا جائے گا۔

اس حساب سے موٹر سائیکل، رکشا اور چنگچی استعمال کرنے والوں کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 2 ہزار روپے جب کہ 800 سی سی تک کی گاڑی رکھنے والوں کو ماہانہ زیادہ سے زیادہ 3 ہزار روپے کا ریلیف مل سکے گا۔

اسکیم کا اطلاق کب ہوگا؟

وزیراعظم کے مطابق اسلام آباد میں اس اسکیم کا اطلاق آئندہ پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہوگا، جب کہ ملک بھر، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس کا اطلاق بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ خصوصی ریلیف اسکیم کے لیے رجسٹریشن کا آغاز بھی کردیا گیا ہے، جب کہ اسکیم کے طریقہ کار سے متعلق آگاہی مہم کے ذریعے عوام کو معلومات فراہم کی جائیں گی۔

انہوں نے موٹر سائیکلوں، رکشا اور چھوٹی گاڑیوں سے متعلق معلومات کی فراہمی میں تعاون پر صوبائی حکومتوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کا مقصد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو کم کرنا اور بالخصوص کم آمدنی والے طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔