ایرانی پارلیمنٹ کی صدارتی کمیٹی کے ترجمان عباس گودرزی نے کہا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) سے الگ ہونا اور ملک کی ایٹمی پالیسی پر نظرثانی کرنا ممکنہ آپشنز میں شامل ہیں۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق عباس گودرزی نے کہا کہ این پی ٹی سے دستبرداری اور ایٹمی پالیسی میں تبدیلی کے ذریعے امریکا اور اس کے اتحادیوں کو جواب دیا جا سکتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمدرضا محسنی ثانی نے بھی کہا کہ تہران اب این پی ٹی کو اپنے لیے پابندی نہیں سمجھتا، چاہے ایران اس معاہدے میں رہے یا اس سے نکل جائے۔
تاہم ایرانی دفتر خارجہ کی جانب سے این پی ٹی سے باضابطہ علیحدگی کا کوئی اعلان نہیں کیا گیا اور نہ ہی واشنگٹن یا ماسکو کو اس حوالے سے کوئی رسمی اطلاع دی گئی ہے۔
دوسری جانب ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے سیاسی اقدامات ممالک کو این پی ٹی سے دستبرداری پر مجبور کر سکتے ہیں۔
اس کے برعکس اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے ایران کو عدم تعاون پر سلامتی کونسل میں بھیجنے کی قرارداد مسترد کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر کہا کہ موجودہ صورت حال امریکا اور اسرائیل کی ’مجرمانہ جارحیت‘ کا نتیجہ ہے اور ایران کو جھکانے کی امریکی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔
عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے 35 رکنی بورڈ میں 23 ممالک نے قرارداد کی حمایت کی، جب کہ روس، چین اور نائیجر نے اس کی مخالفت کی۔
یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کے لیے یہ انتہائی اہم اور فوری ہے کہ وہ اپنے جوہری مواد کی مقدار اور مقامات سے متعلق قابل تصدیق معلومات فراہم کرے اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کو اپنی تمام جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے۔
اگرچہ عالمی برادری نے ایران کی جانب سے عدم تعاون پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم سلامتی کونسل میں روس اور چین کے پاس ویٹو کا اختیار ہونے کے باعث ایران کے خلاف فوری عملی کارروائی کے امکانات محدود سمجھے جا رہے ہیں۔







