PACE یعنی Plankton, Aerosol, Cloud, Ocean Ecosystem سیٹلائٹ جب کسی علاقے کے اوپر سے گزرے گا تو یہ بادلوں اور فضا میں موجود ذرات کے سورج کی روشنی کو جذب اور منعکس کرنے کے عمل کی پیمائش کرے گا۔
اس مشن میں عام شہری بھی سائنس دانوں کی مدد کر سکیں گے۔ سائنس دان خلا سے حاصل ہونے والے مشاہدات کا موازنہ زمین پر موجود افراد کے مشاہدات سے کرنا چاہتے ہیں۔
PACE مشن کے ماحولیاتی سربراہ ڈاکٹر اینڈریو سیئر کے مطابق لوگوں کی جانب سے لی گئی تصاویر محققین کو خلا سے حاصل ہونے والی تصاویر کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیں گی۔ PACE سیٹلائٹ کی تصاویر میں ہر پکسل تقریباً 0.75 میل یا 1.2 کلومیٹر کے علاقے کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے زمین سے کیے جانے والے مشاہدات زیادہ تفصیلات فراہم کرکے معلومات میں موجود خلا کو پُر کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
ڈاکٹر اینڈریو سیئر کے مطابق سائنس دان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ سیٹلائٹ کی تصویر میں ہر پکسل کے اندر بادل موجود ہیں یا نہیں۔ اگر بادل موجود ہوں تو ان کی خصوصیات جبکہ بادل نہ ہونے کی صورت میں فضا اور زمین کی سطح کی خصوصیات جاننے کی کوشش کی جائے گی۔
آپ اس منصوبے میں کیسے حصہ لے سکتے ہیں؟
اس منصوبے میں حصہ لینے کے لیے Globe Observer ایپ ڈاؤن لوڈ کرکے PACE سیٹلائٹ کے اپنے مقام کے اوپر سے گزرنے کے وقت کے لیے الرٹ سیٹ کیا جا سکتا ہے۔ محققین کے مطابق مشاہدے کے لیے وقت انتہائی اہم ہے، اس لیے شرکا کو پہلے سے تیار رہنے کی ضرورت ہوگی۔
PACE سیٹلائٹ کے آپ کے مقام کے اوپر سے گزرنے سے تقریباً پانچ منٹ پہلے باہر نکلیں اور بادلوں کے مشاہدے کے لیے مناسب جگہ پر کھڑے ہو جائیں۔
مشاہدے کا وقت آنے پر ایپ میں موجود ’Clouds‘ ٹول پر کلک کریں اور ایپ کی ہدایات کے مطابق چھ مختلف سمتوں میں بادلوں کی تصاویر لیں۔
محققین کی درخواست ہے کہ بادلوں کی تصاویر صرف دن کی روشنی میں لی جائیں اور رات کے وقت تصاویر نہ بھیجی جائیں۔ اس منصوبے میں حصہ لینے کے طریقہ کار اور مزید معلومات آن لائن دستیاب ہیں۔
یہ منصوبہ 15 اکتوبر تک جاری رہے گا، اس لیے آغاز کے بعد لوگوں کے پاس اس میں شرکت کے لیے تقریباً ایک ماہ کا وقت ہوگا۔
PACE سیٹلائٹ کو 2024 میں خلا میں بھیجا گیا تھا تاکہ زمین سے تقریباً 420 میل یا 676 کلومیٹر کی بلندی سے فضا اور سمندروں کا انتہائی تفصیلی مشاہدہ کیا جا سکے۔
سیٹلائٹ کی لانچ کے موقع پر منصوبے کے سائنس دان جیریمی ورڈل نے کہا تھا کہ یہ زمین کا ایک بے مثال منظر پیش کرے گا۔
سائنس دانوں کو امید ہے کہ اس مشن سے حاصل ہونے والے مشاہدات موسمی پیش گوئیوں کو بہتر بنانے میں مدد دیں گے، جن میں سمندری طوفانوں کے اوقات کا زیادہ درست اندازہ لگانا اور زہریلی الجی کے پھیلاؤ کی پیش گوئی بھی شامل ہے۔







