اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس وقت 32 مقامات پر دھرنے جاری ہیں جبکہ آج یہ احتجاج 40 شہروں تک پھیلنے کی امید ہے۔

انہوں نے کہا کہ چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے عام عوام پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔ پٹرولیم لیوی کا پٹرول کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عارف نقوی کو انگلینڈ میں سزا ہوئی، جبکہ پاکستان میں وہ حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پورے ملک میں ایلیٹ کیپچر ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ چینی کے نام پر حکومت نے نیا دھندا شروع کیا ہوا ہے، جبکہ ملک میں کسانوں کا استحصال ہو رہا ہے اور یہ سب مافیا کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز کے ساتھ 1984 میں کیے گئے معاہدوں کے بارے میں اگر عوام کو معلوم ہو جائے تو وہ ان پر تھو تھو کریں گے۔ پاور پلانٹ لگانے کے لیے عوام کے پیسے استعمال کیے گئے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی جماعتیں کبھی عوام کے لیے کھڑی نہیں ہوئیں۔ کسی پارٹی نے پٹرول مافیا اور گندم مافیا کے خلاف کبھی احتجاج نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب تک یہ مافیا ختم نہیں ہوں گے، ہماری معیشت آزاد نہیں ہو گی۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ راستے میں انہوں نے ایک بچے کو جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی کے پوسٹر کے ساتھ بیٹھے دیکھا، جو ان کے بقول عوام کے دل کی آواز ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ یہ ایلیٹ ہماری تقدیروں کا فیصلہ کرتی ہیں اور یہ نظام ہم پر مسلط ہو چکا ہے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم لیوی ختم کی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ 11.5 فیصد شرح سود کو کم کرنا چاہیے۔ اگر شرح سود میں 3 فیصد کمی کی جائے تو ملک کو 1700 ارب روپے کی بچت ہو سکتی ہے۔

انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے سوال کیا کہ وہ بتائیں کہ شرح سود میں 3 فیصد کمی کیوں نہیں کی جا رہی۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پاکستان میں بدترین سرمایہ دارانہ نظام مسلط ہے۔