نیپرا کے مطابق پلان میں 26 ہزار 45 میگاواٹ نئی پیداواری صلاحیت شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس میں 17 ہزار 485 میگاواٹ کمٹڈ اور 8 ہزار 560 میگاواٹ آپٹمائزڈ صلاحیت شامل ہوگی، جبکہ 2 ہزار 577 میگاواٹ پرانی پیداواری صلاحیت ریٹائر کرنے کی تجویز ہے۔

نیپرا کا کہنا ہے کہ 2035 تک ملک کی مجموعی نصب شدہ پیداواری صلاحیت 62 ہزار 657 میگاواٹ تک پہنچنے کا امکان ہے، جبکہ منصوبے میں 8 ہزار 120 میگاواٹ نیٹ میٹرنگ بھی شامل ہے۔

منصوبے کے تحت اضافی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت پر 47 ارب ڈالر سے زائد لاگت متوقع ہے، جبکہ ٹرانسمیشن منصوبوں کے لیے 10 ارب 65 کروڑ ڈالر درکار ہوں گے۔ ٹرانسمیشن نظام کی مضبوطی اور نئے گرڈ اسٹیشنز بھی منصوبے کا حصہ ہیں۔

نیپرا کے مطابق گوادر اور مکران کے لیے 40 میگاواٹ پاور پلانٹ کی گنجائش جبکہ دھابیجی میں 269 میگاواٹ ونڈ سولر ہائبرڈ منصوبہ بھی انٹیگریٹڈ سسٹم پلان میں شامل کیا گیا ہے۔

نیپرا نے 90 کروڑ ڈالر کے بیٹری انرجی اسٹوریج منصوبے کی منظوری نہیں دی۔ نیپرا کے مطابق بیٹری اسٹوریج منصوبوں کے لیے جامع تکنیکی اور معاشی مطالعہ ضروری ہے۔

نیپرا ارکان نے انڈیپنڈنٹ سسٹم مارکیٹ آپریٹر کی جانب سے بڑے منصوبوں کی شمولیت اور اخراج پر سوالات بھی اٹھائے۔ ارکان نے قومی توانائی منصوبہ بندی میں مشترکہ مفادات کونسل کو نظرانداز کرنے پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔

ارکان کا کہنا تھا کہ قومی بجلی پالیسی میں تبدیلی مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر نہیں ہوسکتی۔

چیئرمین نیپرا سمیت تینوں ارکان نے فیصلے میں اختلافی آرا بھی دیں، تاہم پلان کی منظوری دے دی گئی۔ اختلافی نوٹ اور آرا مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بغیر پلان میں منصوبوں کی شمولیت یا اخراج سے متعلق ہیں۔