نجی نشریاتی ادارے جیو نیوز کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں سینیٹر انوشہ رحمان کا پیکا قانون میں ترمیم سے متعلق بل زیرِ غور آیا، جسے تفصیلی بحث کے بعد اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا گیا۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ ان کے بل کی حمایت این سی سی آئی اے بھی کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سوشل میڈیا پر قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کا طریقۂ کار کیا ہوگا؟ اگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پی ٹی اے اور این سی سی آئی اے کی درخواست کے باوجود قابلِ اعتراض مواد نہیں ہٹاتے تو اس صورت میں کیا اقدام کیا جائے گا؟
ڈی جی این سی سی آئی اے نے بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو تعاون کے لیے درخواستیں ارسال کی جا چکی ہیں۔
انوشہ رحمان نے کہا کہ وہ ساری زندگی یہی سنتی آئی ہیں کہ کوئی واضح طریقۂ کار موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک باقاعدہ نظام ہونا چاہیے جس کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز قابلِ اعتراض مواد ہٹائیں، کیونکہ ماضی میں سروس پرووائیڈرز یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ جب تک قانونی طور پر جرم ثابت نہ ہو، مواد نہیں ہٹایا جا سکتا۔
وزیرِ مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ سوشل میڈیا سے متعلق قانون سازی آئی ٹی وزارت کا دائرۂ کار ہے، جس پر انوشہ رحمان نے جواب دیا کہ اس وقت قانون آپ ہی کے پاس موجود ہے۔
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ ہم خود سوشل میڈیا سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں اور جب بھی کوئی اقدام کیا جاتا ہے تو پوری دنیا ہمارے خلاف کھڑی ہو جاتی ہے کہ ہم آزادیٔ اظہارِ رائے پر پابندی لگا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پہلے پستول استعمال کرتے تھے، اب سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں، اور حکومت بھی یہی چاہتی ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور سروس پرووائیڈرز کو مؤثر طور پر پابند کیا جائے۔







