اسلام آباد اور لاہور میں الگ الگ پریس کانفرنسوں سے خطاب کرتے ہوئے عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کا کوئی دین یا مذہب نہیں، ان کا واحد نظریہ دہشت پھیلانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ نماز جمعہ کے دوران مسلمانوں کو نشانہ بنانے والے انسانیت کے دشمن ہیں اور انہیں کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ مساجد، امام بارگاہوں اور دیگر دینی مراکز کی سیکیورٹی کے لیے حکومت بھرپور اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ اسلام آباد واقعے کے حوالے سے خاطر خواہ پیشرفت ہو چکی ہے، جب کہ سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی نشاندہی بھی کر لی گئی ہے، جنہیں جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ دہشت گرد اب ہارڈ ٹارگٹس تک پہنچنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں، اسی لیے وہ مضافاتی اور دور دراز علاقوں میں سافٹ ٹارگٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر الرٹ ہیں اور مزید سخت اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کے نتیجے میں خودکش حملے ختم ہو گئے تھے اور ملک میں امن بحال ہو چکا تھا، تاہم ایک مخصوص سوچ کے تحت دہشت گردوں کو دوبارہ جگہ دی گئی، جس کا خمیازہ آج پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد دھماکہ: ’حملہ آور خودکش جیکٹ پہن کر پبلک ٹرانسپورٹ میں آیا‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں دہشت گردی کی واپسی کے پیچھے پی ٹی آئی کی پالیسیوں کا کردار ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی پر پاکستان کے تحفظات بالکل واضح ہیں۔ دہشت گرد چند کوڑیوں کی خاطر مسلمانوں کا خون بہا رہے ہیں، مگر اب ان کے گرد گھیرا تنگ ہو چکا ہے۔ وزیراعظم نے انسداد دہشت گردی کے حوالے سے وزیر داخلہ کو مکمل ہدایات جاری کر دی ہیں۔

عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ ملک میں فرقہ واریت، نفرت اور انتہاپسندی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پیغامِ امن کمیٹی کے ذریعے تمام مکاتب فکر کو ساتھ لے کر دہشت گردانہ نظریات کے خاتمے اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کا جڑ سے خاتمہ کر کے ہی دم لیا جائے گا۔