ڈان نیوز کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ایک ہفتے تک جاری رہنے والی شدید جھڑپوں کے بعد دوحہ میں ہونے والے پہلے دور میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے دوران فریقین نے اس بات پر بھی رضامندی ظاہر کی تھی کہ آنے والے دنوں میں مزید ملاقاتیں کی جائیں گی تاکہ جنگ بندی کے تسلسل کو یقینی بنایا جا سکے اور اس کے نفاذ کی مؤثر نگرانی ممکن ہو۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاک افغان مذاکرات کا دوسرا مرحلہ آج استنبول میں ہوگا۔
دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ کشیدگی نہیں چاہتا، تاہم افغان طالبان پر زور دیتا ہے کہ وہ عالمی برادری سے کیے گئے وعدوں کی پاسداری کریں اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، فتنۃ الہندوستان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف عملی کارروائی کریں۔
اس سے قبل 18 اور 19 اکتوبر کو قطر میں ہونے والے مذاکرات میں دونوں ممالک نے اپنے تحفظات پیش کیے تھے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے مطابق پاکستان، افغانستان، ترکیہ اور قطر کے درمیان طے پانے والے معاہدے میں واضح طور پر درج ہے کہ کوئی بھی فریق سرحدی دراندازی نہیں کرے گا، اور جب تک معاہدے کی خلاف ورزی نہیں ہوتی، جنگ بندی برقرار رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ ٹی ٹی پی افغانستان کی سرزمین سے طالبان کی ملی بھگت سے حملے کرتی رہی ہے، تاہم کابل ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی معاہدے کا بنیادی مقصد دہشت گردی کے خطرے کا خاتمہ ہے جو کئی برسوں سے سرحدی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔
Statement | Pakistan and Afghanistan Agree to an Immediate Ceasefire During a Round of Negotiations in Doha#MOFAQatar pic.twitter.com/fPXvn6GaU6
— Ministry of Foreign Affairs - Qatar (@MofaQatar_EN) October 18, 2025
خیال رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 2600 کلومیٹر طویل متنازع سرحد پر لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا کہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرے جو افغانستان میں پناہ لے کر پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔
بعد ازاں 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب افغان طالبان فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے جواب میں پاک فضائیہ نے کارروائی کی۔ سیکیورٹی فورسز نے کنڑ، ننگرہار، پکتیکا، خوست اور ہلمند میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نشانہ بنائے اور افغان چوکیوں کو تباہ کیا، جس میں درجنوں طالبان ہلاک ہوئے۔
افغان حکومت کی درخواست پر پاکستان نے 15 اکتوبر کو 48 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کی جسے بعد میں مذاکرات کے تسلسل تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔







