وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری سیکیورٹی اقدامات، دہشتگردی کے حالیہ واقعات اور آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے فرنٹ لائن پر دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اور ان کی استعداد کار بڑھانے کے لیے عملی اقدامات جاری ہیں۔

انہوں  نے ہدایت کی کہ تمام ادارے جامع اور واضح حکمت عملی کے تحت آگے بڑھیں اور دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جائے،رمضان المبارک کے دوران ختم قرآن اجتماعات اور دیگر مذہبی سرگرمیوں کی فول پروف سیکیورٹی کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں اور معیاری عملی طریقہ کار پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔

انہوں نے محکمہ پولیس میں خالی آسامیوں کو جلد پر کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ فورس کی نفری میں اضافہ وقت کی ضرورت ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران محکمہ پولیس کو پروکیورمنٹ کی مد میں 15 ارب روپے سے زائد جاری کیے جا چکے ہیں جبکہ 9 ہزار سے زائد آسامیوں کے بھرتی ٹیسٹ مکمل ہو چکے ہیں اور عید سے قبل تقرریاں مکمل کر لی جائیں گی۔

مزید پڑھیں: افغانستان کی اشتعال انگیزی پر پاکستان کا بھرپور جواب جاری ہے، عطاء اللہ تارڑ

اجلاس میں پشاور، ڈی آئی خان، بنوں اور لکی مروت میں سیف سٹی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا جو افتتاح کے لیے تیار ہیں، جبکہ کرک، ٹانک اور شمالی وزیرستان کے منصوبوں کی منظوری کے لیے دستاویزات محکمہ داخلہ کو ارسال کر دی گئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ سیف سٹی منصوبوں کے عملی نتائج یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ باقاعدہ اجلاس کیے جائیں اور عوام کو بھی ان اقدامات سے آگاہ کیا جائے۔

انہوں نے دہشتگردی سے متاثرہ اہلکاروں کے لیے مصنوعی اعضا کی باضابطہ پالیسی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ جو جوان قوم کے لیے اپنی جانیں اور اعضا قربان کرتے ہیں، ان کی ہر ممکن معاونت حکومت کی ذمہ داری ہے،خیبرپختونخوا کو ہارڈ ایریا قرار دینے کے لیے وفاق سے دوبارہ رابطہ کیا جائے گا تاکہ فورسز کو درپیش چیلنجز کے مطابق اضافی وسائل حاصل کیے جا سکیں۔

انہوں  نے اعلان کیا کہ امن و امان کی صورتحال کا ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ لیا جائے گا اور ہر سطح پر جوابدہی کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک جاری رہے گی اور صوبے میں امن کے قیام کے لیے تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔