عالمی خبررساں اداروں کے مطابق صدر ٹرمپ ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایشین نیشنز (آسیان) سمٹ میں شرکت کے لیے کوالالمپور پہنچیں گے، جو ان کے تین ممالک کے دورے کا پہلا مرحلہ ہے۔ صدر ٹرمپ جاپان اور جنوبی کوریا کا بھی دورہ کریں گے، جب کہ اس دوران ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات بھی متوقع ہے۔

ایئر فورس ون پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ مجھے چین کے ساتھ مختلف معاملات، خصوصاً فینٹانائل اسمگلنگ اور سویابین تجارت پر جامع پیشرفت کی امید ہے۔ میرا ماننا ہے کہ ہم ایک بہت ہی جامع معاہدے کے قریب ہیں، میں چاہتا ہوں ہمارے کسانوں کے مفادات کا تحفظ ہو اور صدر شی بھی اپنی ترجیحات رکھتے ہیں۔

صدر ٹرمپ مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بجے کوالالمپور پہنچیں گے، جہاں وہ ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کریں گے، اس کے بعد کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے رہنماؤں کے ہمراہ فائر بندی معاہدے پر دستخط کی تقریب میں شریک ہوں گے۔

فیوچر فورم کے سربراہ او ویرک کے مطابق ٹرمپ کا تجارتی دباؤ ڈالنا انتہائی مؤثر ثابت ہوا۔ یہی اصل وجہ ہے کہ دونوں ممالک فوری طور پر فائر بندی پر آمادہ ہوئے۔

تھائی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نیکورنڈیج بلنکورا کے مطابق اتوار کو دستخط ہونے والا مشترکہ اعلامیہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بحالی اور سرحدی سکیورٹی کے معاملات پر تعاون کے عزم کا اظہار کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ملائیشیا کے ساتھ تجارتی معاہدہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جس پر ان کے دورے کے دوران دستخط متوقع ہیں۔ ہم نے کئی ممالک کے ساتھ بہترین معاہدے کیے ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ  صدر ٹرمپ کا طیارہ قطر کے العدید ایئر بیس پر ایندھن بھرنے کے لیے مختصر قیام کرے گا، جہاں وہ قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور وزیرِاعظم شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے ملاقات کریں گے۔  یہ ملاقات غزہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں امریکی کوششوں کا حصہ ہے۔

قطر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کیا ہے، جب کہ ترکی، مصر اور امریکا اس معاہدے کے ضامن ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی اس ملاقات میں شریک ہوں گے، جو حال ہی میں اسرائیل کے دورے سے واپس لوٹے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ دورہ نہ صرف تجارتی محاذ بلکہ علاقائی تنازعات کے حل میں بھی ان کی بین الاقوامی کردار سازی کی کوشش کا حصہ ہے، جسے وہ اپنی نوبل امن انعام کی مہم کے لیے بھی ایک سنگ میل کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔