مصر، ترکیہ، قطر اور امریکا کی ثالثی سے غزہ میں جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ تقریب کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، مصری صدر عبدالفتاح السیسی اور دیگر عالمی رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

صدر ٹرمپ نے معاہدے کو تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ غزہ امن معاہدہ دوست ممالک کے تعاون سے ممکن ہوا، تمام فریقین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

ٹرمپ کا اس موقع پر کہنا تھا کہ میں خصوصی طور پر وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور اپنے فیورٹ فیلڈ مارشل عاصم منیر، جو یہاں موجود نہیں ہیں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ بعد ازاں صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم شہباز شریف کو خطاب کے لیے مدعو کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن غزہ کے لیے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ انتھک کوششوں کے بعد امن ممکن ہوا ہے اور اس کامیابی میں صدر ٹرمپ کا کردار قابلِ تحسین ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے نامزد کیا ہے کیونکہ انہوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا میں بھی امن قائم کرنے میں کردار ادا کیا۔ صدر ٹرمپ نے لاکھوں زندگیاں بچائیں اور وہ حقیقی معنوں میں امن کے علمبردار ہیں۔

مزید پڑھیں: غزہ امن معاہدے پر باضابطہ دستخط: 'ہمیں اس مقام تک پہنچنے میں 500 سے 3000 سال کے درمیان کا عرصہ لگا ہے'، ڈونلڈ ٹرمپ

شہباز شریف نے صدر ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن امتِ مسلمہ اور دنیا کے لیے امن کی نئی امید لے کر آیا ہے۔

واضح رہے کہ تقریب سے قبل شرم الشیخ پہنچنے پر مصری صدر السیسی نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔

وزیر اعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ اور اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سمیت متعدد عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔

وزیر اعظم نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کے عزم اور ان کی سفارتی و اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔