عالمی سربراہی اجلاس سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطاب کرتے ہوئے قطر، ترکی اور مصر کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے اپنے مصری ہم منصب کا بھی شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں “شاندار انسان” اور “عظیم جنرل” قرار دیا۔
شرم الشیخ میں منعقدہ امن سربراہ اجلاس کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ پر جنگ کو روکنے کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آپ کو یقین نہیں آئے گا، ہمیں اس مقام تک پہنچنے میں 500 سے 3000 سال کے درمیان کا عرصہ لگا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ایک ایسی دستاویز پر دستخط کرنے جا رہے ہیں، جو بہت سے اصول و ضوابط اور دیگر اہم نکات پر مشتمل ہے، یہ ایک جامع معاہدہ ہے۔ انہوں نے یہ یقین دلایا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی واقعی ناقابلِ یقین حد تک مؤثر طریقے سے کام کر رہی ہے۔
امریکی صدر نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ہمراہ گفتگو میں کہا کہ ہر کسی کو لگتا تھا کہ ایسا ممکن نہیں، مگر یہ ہو رہا ہے اور آپ اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہے ہیں۔
اس سے قبل ابتدائی کلمات کے بعد امریکی صدر جنگ بندی معاہدے پر دستخط کے لیے آگے بڑھے۔ دستخط شدہ معاہدے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ٹرمپ نے کہا کہ یہ معاہدہ برقرار رہے گا۔
تقریب مکمل ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ وہ جلد اپنی تقریر کریں گے اور مزید بات چیت کے لیے رہنماؤں کے ساتھ پسِ پردہ ملاقاتیں جاری رکھیں گے، جس کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ غزہ امن معاہدہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بنیاد رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ آج ایک تاریخی دن ہے، غزہ امن معاہدہ بڑی کامیابی ہے، دوست ممالک کے تعاون سے یہ معاہدہ ممکن ہوا۔ ایسے کامیاب دن پہلے کبھی نہیں دیکھے گئے اور اس میں مصر کا کردار کلیدی ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن و استحکام چاہتے ہیں اور مل کر غزہ کی تعمیرِ نو کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شرم الشیخ امن سربراہی اجلاس میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ امن بندی معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف اور ’اپنے پسندیدہ‘ فیلڈ مارشل عاصم منیر سمیت کئی عالمی رہنماؤں کا غزہ میں امن قائم کرنے کی کوششوں پر خاص طور پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کو تقریب میں خصوصی خطاب کی دعوت بھی دی۔
خطاب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر کا امن معاہدہ طے کرانے کی کوششوں پر شکریہ ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج غزہ کے عوام کیلئے تاریخی دن ہے کیونکہ انتھک کوششوں کے بعد امن حاصل کرلیا گیا ہے۔ یہ کوششیں صدر ٹرمپ کی قیادت میں کی گئیں جو حقیقتاً امن کے علمبردار ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے صدر ٹرمپ کو امن کے نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا تھا، اور آج میں ایک بار پھر صدرٹرمپ کونوبیل انعام دینے کے لیے درخواست کرتا ہوں کیونکہ وہ اس انعام کے حقیقی حقدار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف جنوبی ایشیا میں امن قائم کیا بلکہ لاکھوں کی زندگیاں بچائیں، اور آج شرم الشیخ میں غزہ میں قیام امن کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں لاکھوں زندگیاں بچائی ہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز نے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کی تعریف کی اور کہا کی ان کی بدعلت جنوبی ایشیا میں امن قائم ہوا ، آج غزہ کے لیے اہم ترین دن ہے اور یہ سب امریکی صدر کی انتھک محنت کی بدولت ہوا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا ان کی دعا ہے کہ صدر ٹرمپ لمبی اور صحت والی زندگی پائیں اور اسی طرح امن کے لیے کام کرتے رہیں۔
اس کے بعد صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان جنگ بندی کرائی اور وہ چاہتے ہیں کہ انڈیا اور پاکستان اچھے ہمسائے بن کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برسوں کی تباہی و بربادی اور خونریزی کے بعد غزہ میں جنگ اب ختم ہوچکی ہے، انسانی امداد وہاں پہنچ رہی ہے، اور خوراک، ادویہ اور دیگر اشیائے ضروریہ سے لدے سیکڑوں ٹرک وہاں پہنچ رہے ہیں، یرغمالی واپس پہنچ گئے ہیں اور شہری اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک نیا اور خوبصورت دن طلوع ہو رہا ہے اور اب تعمیرِ نو کا عمل شروع ہوتا ہے۔ انہوں نے عرب و مسلم ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس غیر معمولی پیش رفت کو ممکن بنانے میں مدد کی۔
واضح رہے کہ شرم الشیخ میں ہونے والے امن سربراہ اجلاس میں 20 سے زائد عالمی رہنما شریک ہوئے، جن میں وزیر اعظم شہباز شریف، برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر، فرانس کے صدر ایمانوئل میخواں، اور ترک صدر رجب طیب اردوان شامل ہیں۔
دوسری جانب حماس نے تاحال صدر ٹرمپ کے 20 نکاتی امن منصوبے کے تمام حصوں پر اتفاق نہیں کیا، اگرچہ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی پر عمل درآمد جاری ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات بھی ہوئی، جس میں دونوں رہنماؤں نے خوشگوار جملوں کا تبادلہ کیا۔
اس سے قبل شرم الشیخ کے کانگریس سینٹر پہنچنے پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے وزیر اعظم شہباز شریف کا استقبال کیا۔
وزیر اعظم نے اجلاس سے قبل فلسطینی صدر محمود عباس، آذربائیجان کے صدر الہام علیوف، آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشنیان، اردن کے شاہ عبداللہ دوم، بحرین کے شاہ حمد بن عیسی الخلیفہ، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، اور کئی دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے فلسطینی عوام سے یکجہتی کے عزم اور ان کی سفارتی و اخلاقی مدد جاری رکھنے کا اعادہ کیا۔
یاد رہے کہ غزہ امن سربراہ اجلاس کا مقصد غزہ میں فوری جنگ بندی اور دیرپا امن کے لیے عالمی کوششوں کو مربوط کرنا ہے۔






