اسلام آباد میں منعقدہ پاک چین بی ٹو بی انویسٹمنٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ پاکستان اس وقت غیر ملکی سرمایہ کاروں، خصوصاً چینی سرمایہ کاروں، کے لیے ایک پرکشش اور ابھرتی ہوئی مارکیٹ بن چکا ہے، پاکستان میں سرمایہ کاری صرف مقامی کاروبار تک محدود نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کو بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی کے وسیع مواقع بھی فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور مختلف شعبوں میں کاروباری ماحول کو مزید سازگار بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، موجودہ حالات میں پاکستان میں سرمایہ کاری مستقبل کے حوالے سے ایک اہم اور فائدہ مند فیصلہ ثابت ہو سکتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس وقت عالمی ادارہ صحت کی لیول ٹو منظوری کی حامل ہے، جبکہ لیول تھری ایکریڈیٹیشن کے حصول کے لیے درکار بیشتر تقاضے مکمل کیے جا چکے ہیں، امید ظاہر کی کہ 2027 کے دوران پاکستان کو یہ اہم بین الاقوامی منظوری حاصل ہو جائے گی، جو ملکی دواسازی کے شعبے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ہوگی۔
وفاقی وزیر صحت کے مطابق لیول تھری منظوری حاصل ہونے کے بعد پاکستانی ادویات کو دنیا کے تقریباً 100 نئے ممالک میں برآمد کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس پیش رفت سے نہ صرف فارماسیوٹیکل برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا بلکہ مقامی صنعت عالمی سطح پر زیادہ مؤثر انداز میں مقابلہ کرنے کے قابل بھی ہو جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمی معیار کی اس منظوری سے پاکستان میں نئی سرمایہ کاری آنے کی رفتار تیز ہوگی، جدید ٹیکنالوجی متعارف ہوگی، ادویات کی تیاری کے معیار میں مزید بہتری آئے گی اور ہزاروں افراد کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، یہ پیش رفت ملکی معیشت کے لیے بھی مثبت ثابت ہوگی۔
چینی سرمایہ کاروں سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے اور اب فارماسیوٹیکل شعبہ بھی دوطرفہ سرمایہ کاری کے لیے ایک اہم میدان بن سکتا ہے، سرمایہ کاروں پر زور دیا کہ وہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط کو مزید مضبوط بنائیں۔
وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ کانفرنس کے دوران متعدد مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں جبکہ مزید معاہدوں کی بھی توقع ہے، تاہم اصل کامیابی صرف معاہدوں پر دستخط کرنے میں نہیں بلکہ ان منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے میں ہے، حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تمام طے پانے والے منصوبوں پر بروقت عمل درآمد ہو۔
مزید پڑھیں:سندھ حکومت اچھے کام کرتی ہے مگر تشہیر میں پیچھے رہ جاتی ہے، مرتضیٰ وہاب
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سرمایہ کاروں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرے گی، کاروباری رکاوٹوں کو دور کیا جائے گا، سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنایا جائے گا اور صنعتکاروں کو ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ وہ اعتماد کے ساتھ پاکستان میں اپنے منصوبوں کا آغاز کر سکیں۔
تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر صحت نے کانفرنس میں شریک چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی باہمی اعتماد اور مشترکہ ترقی پر مبنی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے اور یہ شراکت داری خطے کی معاشی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔







