فافن کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے سامنے پیش نہ ہونے والے وزرا اور افسران کیلئے سزائیں مقرر کی جائیں تاکہ پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنایا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق فافن کا کہنا ہے کہ اس وقت پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات محض علامتی نوعیت کے رہ گئے ہیں، جس کے باعث مؤثر نگرانی ممکن نہیں رہی۔ تنظیم نے زور دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت پارلیمانی کمیٹیوں کو قابلِ نفاذ اختیارات دیے جائیں تاکہ ایگزیکٹو پر پارلیمنٹ کی گرفت مضبوط ہو سکے۔

فافن نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹیوں کو وزرا اور سرکاری افسران کو طلب کرنے کا واضح اور مؤثر اختیار دیا جائے اور کمیٹیوں کے سامنے پیش نہ ہونے پر سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دستاویزات فراہم نہ کرنے یا غلط معلومات دینے کی صورت میں بھی کارروائی ہونی چاہیے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ رازداری کے نام پر معلومات روکنے کے عمل کا غلط استعمال بند کیا جائے اور معلومات روکنے کی ہر درخواست تحریری جواز کے ساتھ دی جائے۔

مزید یہ کہ پارلیمانی کمیٹیوں کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اس کی رپورٹ باقاعدہ طور پر ایوان میں پیش کی جائے۔

فافن کے مطابق پاکستان میں پارلیمانی نگرانی کمزور جبکہ ایگزیکٹو کا غلبہ برقرار ہے، جس کا ذکر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔

تنظیم نے زور دیا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کو حقیقی احتسابی اداروں میں تبدیل کرنے کیلئے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ مؤثر پارلیمانی نگرانی جمہوری نظام کی ایک بنیادی آئینی ضرورت ہے۔