فافن کا کہنا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کے سامنے پیش نہ ہونے والے وزرا اور افسران کیلئے سزائیں مقرر کی جائیں تاکہ پارلیمانی نگرانی کو مضبوط بنایا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق فافن کا کہنا ہے کہ اس وقت پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات محض علامتی نوعیت کے رہ گئے ہیں، جس کے باعث مؤثر نگرانی ممکن نہیں رہی۔ تنظیم نے زور دیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 66 کے تحت پارلیمانی کمیٹیوں کو قابلِ نفاذ اختیارات دیے جائیں تاکہ ایگزیکٹو پر پارلیمنٹ کی گرفت مضبوط ہو سکے۔
کمیٹیاں پارلیمنٹ کی آنکھیں اور کان سمجھی جاتی ہیں۔ تاہم ہمارے ہاں پارلیمانی کمیٹیوں کے اختیارات نہایت محدود ہیں جس سے حکومتی کارکردگی کی مؤثر پارلیمانی نگرانی نہیں ہو پاتی۔ فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک نے کمیٹیوں کو مضبوط بنانے کے لیے اہم سفارشات تجویز کی ہیں۔ ان سفارشات کے لیے… pic.twitter.com/f0N7lddEpm
— FAFEN (@_FAFEN) February 8, 2026
فافن نے مطالبہ کیا ہے کہ کمیٹیوں کو وزرا اور سرکاری افسران کو طلب کرنے کا واضح اور مؤثر اختیار دیا جائے اور کمیٹیوں کے سامنے پیش نہ ہونے پر سخت سزائیں مقرر کی جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دستاویزات فراہم نہ کرنے یا غلط معلومات دینے کی صورت میں بھی کارروائی ہونی چاہیے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ رازداری کے نام پر معلومات روکنے کے عمل کا غلط استعمال بند کیا جائے اور معلومات روکنے کی ہر درخواست تحریری جواز کے ساتھ دی جائے۔
مزید یہ کہ پارلیمانی کمیٹیوں کی ہدایات پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اس کی رپورٹ باقاعدہ طور پر ایوان میں پیش کی جائے۔
فافن کے مطابق پاکستان میں پارلیمانی نگرانی کمزور جبکہ ایگزیکٹو کا غلبہ برقرار ہے، جس کا ذکر عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بھی کیا گیا ہے۔
تنظیم نے زور دیا ہے کہ قائمہ کمیٹیوں کو حقیقی احتسابی اداروں میں تبدیل کرنے کیلئے فوری اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ مؤثر پارلیمانی نگرانی جمہوری نظام کی ایک بنیادی آئینی ضرورت ہے۔







