اپنے بیان میں وزیراعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ حکومت کو دستیاب معلومات کے مطابق بعض شرپسند عناصر کئی ہفتوں سے حالات کو کشیدہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان عناصر کا مقصد بڑے پیمانے پر بدامنی پیدا کرنا، ریاستی اداروں کو دباؤ میں لانا اور بے گناہ شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنا تھا۔

فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ حکومت ایسے کسی بھی منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور ریاست میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں اور کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی

وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ احتجاج میں شامل بعض مسلح عناصر جدید ہتھیاروں سے لیس ہیں اور انہیں مختلف حساس مقامات تک رسائی حاصل ہے، انہی مقامات سے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوسکتی ہے۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ایسے عناصر سے دور رہیں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی کا حصہ نہ بنیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شرپسند عناصر عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرکے تصادم کی کیفیت پیدا کرنا چاہتے ہیں، اس لیے شہری اپنی اور اپنے اہل خانہ کی حفاظت کو ترجیح دیں۔

دوسری جانب آزاد کشمیر پولیس نے تصدیق کی ہے کہ احتجاج کے دوران کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی مبینہ فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار زخمی ہوگئے، جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق راولاکوٹ کی جانب پیش قدمی کے دوران مختلف مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں، جن کے نتیجے میں متعدد افراد کے جاں بحق اور کئی کے زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد کے حوالے سے سرکاری سطح پر باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

مزید پڑھیں: راولا کوٹ میں حالات کشیدہ، فائرنگ کے واقعات میں متعدد افراد کے مارے جانے کی اطلاعات

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ امن و امان کی بحالی کے لیے اضافی نفری بھی تعینات کردی گئی ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اطلاعات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں۔

ادھر حکومت آزاد کشمیر نے واضح کیا ہے کہ ریاست میں امن، عوام کے جان و مال کا تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، جبکہ قانون شکنی یا تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔