20 مئی 2026ء کو سیکیورٹی فورسز نے سارانان کے علاقے ارجم کلی میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے اہم افغان کمانڈر بصیر کو ہلاک، جب کہ اس کے ایک افغان ساتھی کو گرفتار کر لیا۔
سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر خارجی کمانڈر بصیر کو شعبان کے علاقے میں ٹریس کیا۔ ہلاک ہونے والا خارجی بصیر، افغان خارجی کمانڈر نوراللہ کا بیٹا تھا، جو سیکیورٹی فورسز پر متعدد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث رہا ہے۔
خارجی بصیر شعبان کے علاقے میں دراندازی کی کوشش کرنے والے گروہوں کا آپریشنل کمانڈر بھی تھا۔ اس سے قبل 22 فروری 2026ء کو خارجی بصیر کی نگرانی میں فتنہ الخوارج کے پانچ خودکش بمباروں پر مشتمل ایک گروہ کو پشین میں سیکیورٹی فورسز نے ہلاک کر دیا تھا۔
فتنہ الخوارج کا اہم سرغنہ افغانی خارجی بصیر سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران جہنم واصل
— PTV News (@PTVNewsOfficial) May 20, 2026
20مئی2026 کو سیکیورٹی فورسز نے سارانان کےعلاقےارجم کلی میں ایک کامیاب آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے اہم افغانی کمانڈر بصیر کو جہنم واصل جبکہ اس کے افغانی ساتھی کو گرفتار کر لیا گیا… pic.twitter.com/4OviGaPstu
خارجی بصیر کی ہلاکت کو سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردوں کے خلاف ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ آپریشن عزمِ استحکام کے تحت فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔






